Arabic (Original)
أناأَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ، سَمِعْتُعَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَافِعٍمَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَذْكُرُ، أَنَّأُمَّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ"، قَالَتْ وَهِيَ تَمْتَشِطُ، فَقَالَتْ لِلَّتِي تُمَشِّطُهَا: وَيْحَكِ لُفِّي رَأْسِي، قَالَتْ: إِنَّمَا يَدْعُو النَّاسَ، قَالَتْ: أَوَ لَسْنَا مِنَ النَّاسِ؟ فَلَفَّتْ رَأْسَهَا، فَقَامَتْ وَرَاءَ حُجْرَتِهَا، فسَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ،إِنِّي بَيْنَمَا أَنَا عَلَى الْحَوْضِ إِذْ مُرَّ بِكُمْ زُمَرًا، فَتَذْهَبُ بِكُمُ الطُّرُقُ، فَنَادَيْتُكُمْ أَلا هَلُمُّوا إِلَى الطَّرِيقِ، فَنَادَانِي مُنَادٍ مِنْ وَرَائِي: إِنَّهُمْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَقُلْتُ: أَلا سُحْقًا، أَلا سُحْقًا".
English Translation
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Allah is more pleased with the repentance of His servant than one of you who finds his lost camel in a waterless desert."
Urdu Translation
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بے شک ایک روز انہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو برسر منبر فرماتے ہوئے سنا:”اے لوگو!“کہا کہ اور وہ کنگھی کروا رہی تھیں تو اس عورت سے جو ان کی کنگھی کر رہی تھیں، کہا تجھ پر افسوس، میرا سر چھوڑ دے، وہ بولی، آپصلی اللہ علیہ وسلممحض لوگوں کو بلا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کیا ہم لوگوں میں سے نہیں ہیں، سو انہوں نے اپنا سر لپیٹا اور اپنے حجرے کے پیچھے کھڑی ہو گئیں اور سنا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمفرما رہے تھے:”اے لوگو! بے شک میں اس دوران کے حوض پر ہوں گا، جب تمہیں کئی گروہوں کی صورت گزارا جائے گا، تو تمہیں اور راستوں پر لے جایا جائے گا، میں تمہیں آواز دوں گا، سنو! اس راستے کی طرف آؤ، تو ایک منادی میرے پیچھے سے آواز دے گا، بے شک انہوں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکے بعد (دین) بدل دیا تھا، میں کہوں گا: خبردار! دوری ہے۔ دوری ہے۔“[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 265]
