Arabic (Original)
أنامُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِابْنِ عُمَرَ، أَنَّعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِخَطَبَ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيَامِي فِيكُمْ، فَقَالَ:" اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِي خَيْرًا، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَسْبِقُ بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، وَلا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا، وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ، وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ".
English Translation
Salman (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Indeed, your Lord is Generous and Shy. When His servant raises his hands to Him, He is shy to return them empty."
Urdu Translation
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ (مقام) پر خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا: ہمارے اندر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکھڑے ہوئے، جس طرح میں تمہارے اندر کھڑا ہوا ہوں اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے متعلق خیر کی وصیت قبول کرو، پھر ان لوگوں کے بارے میں جو ان کے بعد آئیں گے، پھر ان لوگوں کے متعلق جو ان کے بعد آئیں گے، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا، یہاں تک کہ بے شک آدمی، اس سے قبل کہ اس سے مطالبہ کیا جائے، گواہی دینی شروع کر دے گا اور مطالبے سے پہلے قسم اٹھانی شروع کر دے گا، تم میں سے جو جنت کا درمیان چاہتا ہے وہ جماعت کو لازماً پکڑ لے۔ بے شک شیطان اکیلے کے ساتھ ہے اور وہ دو سے زیادہ دور ہے اور تمہارا کوئی ہرگز کسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہیں ہوتا، مگر شیطان ہی ان دونوں کا تیسرا ہوتا ہے اور جسے اس کی نیکی خوش لگے اور گناہ برا لگے تو وہ مومن ہے۔“[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 256]
