Arabic (Original)
عَنْحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْأَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هَضْهَاضٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ،أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ أَتَى رَجُلا، يُقَالُ لَهُ: هِرَاكٌ، فَقَالَ: يَا هِرَاكُ، إِنَّ الآخَرَ قَدْ زَنَى فَمَا تَرَى؟ قَالَ: ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِيكَ الْقُرْآنُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدْ زَنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ زَجَرَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ أَمَرَ بِرَجْمِهِ، فَلَمَّا رُجِمَ لَجَأَ إِلَى شَجَرَةٍ فَقُتِلَ، فَقَالَ رَجُلٌ لِصَاحِبِهِ: قُتِلَ كَمَا يُقْتَلُ الْكَلْبُ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ مُنْتَفِخٍ، فَقَالَ لَهُمَا:" أَنَهَشْتُمَا مِنْ هَذَا الْحِمَارِ؟"، قَالا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حُرِّمَتْ مَيْتَتُهُ، كَيْفَ يُنْهَشُ مِنْهَا؟ قَالَ:" الَّذِي أَصَبْتُمَا مِنْ أَحَدِكُمَا أَبْيَنُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّهُ يَسْتَحِمَّنَّ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ"، قَالَ: وَقَالَ لِهِرَاكٍ:" وَيْحَكَ يَا هِرَاكُ، أَلا رَجَمْتَهُ".
English Translation
Abu Shuraih (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "By Allah, he does not believe! By Allah, he does not believe! By Allah, he does not believe!" It was asked: "Who, O Messenger of Allah?" He said: "The one whose neighbor does not feel safe from his harm."
Urdu Translation
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک ماعز بن مالک ایک آدمی کے پاس آیا جسے ہراک کہا جاتا تھا اور کہا: اے ہراک! بے شک دوسرے نے یقیناً زنا کر لیا ہے، تیری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس جا۔ اس سے پہلے کہ تیرے بارے میں قرآن نازل ہو جائے، وہ نبیصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آیا اور آپصلی اللہ علیہ وسلمکو خبر دی کہ یقیناً اس نے زنا کر لیا ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس سے اعراض کیا، اس نے پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمکو خبر دی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس سے اعراض کر لیا، چار مرتبہ (منہ پھیرا) جب چوتھی مرتبہ تھی تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اسے رجم کا حکم دے دیا، جب اسے رجم کیا گیا تو اس نے ایک درخت کی پناہ پکڑی، سو قتل کر دیا گیا، ایک آدمی نے اپنے ساتھی سے کہا: یہ قتل کیا گیا جس طرح کتا مارا جاتا ہے۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمایک (موت کی وجہ سے) پھولے ہوئے گدھے کے پاس آئے اور ان دونوں سے فرمایا:”اس گدھے کا گوشت نوچو،“ان دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایک بدبودار مردار ہے، کیا اس کا گوشت نوچا جا سکتا ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اپنے بھائی کے بارے میں جس چیز کو تم دونوں پہنچے ہو وہ زیادہ بدبودار ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے وہ تو جنت کی نہروں میں غوطہ خوری کر رہا ہے۔“کہا کہ اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ہراس سے فرمایا:”اے ہراس! تو نے اس پر رحم کیوں نہ کیا؟“[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 164]
