Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ ذَكَرُوا تَفْرِيطَهُمْ فِي النَّوْمِ فَقَالَ نَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلاَةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ فَسَمِعَنِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ، وَأَنَا أُحَدِّثُ، بِالْحَدِيثِ فَقَالَ يَا فَتًى انْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ فَإِنِّي شَاهِدٌ لِلْحَدِيثِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . قَالَ فَمَا أَنْكَرَ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا .
English Translation
Hadrat Abdullah bin Rabah narrated that Hadrat Abu Qatadah (may Allah be well pleased with him) said: "They mentioned negligence because of sleeping too much, and he said: 'They slept until the sun had risen. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "There is no negligence when oneis sleeping, rather there is negligence when one is awake. If anyone of you forgets to pray, or sleeps and misses a prayer, then let him pray when he remembers, and during its time if it is a day after. (Sahih)'Abdullah bin Rabah said: "Hadrat Imran bin Husain heard me when I was narrating this Hadith and said: 'O young man, look at how you are narrating the Hadith. I was present at the time of this Hadith with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).' And he did not deny anything of the Hadith
Urdu Translation
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نیند کی وجہ سے اپنی کوتاہی کا ذکر چھیڑا تو انہوں نے کہا: لوگ سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نیند میں کوتاہی نہیں ہے، کوتاہی بیداری کی حالت میں ہے، لہٰذا جب کوئی شخص نماز بھول جائے یا اس سے سو جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے، اور اگلے روز اس کے وقت میں پڑھ لے ۱؎۔ عبداللہ بن رباح کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے سنا تو کہا: نوجوان! ذرا غور کرو، تم کیسے حدیث بیان کر رہے ہو؟ اس حدیث کے وقت میں خود رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، وہ کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس میں سے کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا
