Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ قَدْ خُضِبَ بِالدِّمَاءِ قَدْ ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ فَقَالَ مَا لَكَ فَقَالَ " فَعَلَ بِي هَؤُلاَءِ وَفَعَلُوا " . قَالَ أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً قَالَ " نَعَمْ أَرِنِي " . فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي فَقَالَ ادْعُ تِلْكَ الشَّجَرَةَ . فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَمْشِي حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ قُلْ لَهَا فَلْتَرْجِعْ فَقَالَ لَهَا فَرَجَعَتْ حَتَّى عَادَتْ إِلَى مَكَانِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " حَسْبِي " .
English Translation
It is narrated that Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said:“One day, Jibril (as) came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when he was sitting in a sorrowful state with his face soaked with blood, because some of the people of Makkah had struck him. He said: ‘What is the matter with you?’ He said: ‘These people did such and such to me.’ He said: ‘Would you like me to show you a sign?’ He said: ‘Yes, show me.’ He looked at a tree on the far side of the valley and said: ‘Call that tree.’ So he called it, and it came walking until it stood before him. He said: ‘Tell it to go back.’ So he told it, and it went back to its place. Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: ‘That is sufficient for me.’”
Urdu Translation
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے، اور لہولہان تھے، اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کو خشت زنی کر کے لہولہان کر دیا تھا، انہوں نے کہا: آپ کو کیا ہو گیا؟ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے ، جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں دکھائیے ، پھر جبرائیل علیہ السلام نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا، اور کہا: آپ اس درخت کو بلائیے، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے آواز دی، وہ آ کر آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا، پھر انہوں نے کہا: آپ اس سے کہیے کہ وہ واپس جائے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے واپس جانے کو کہا، تو وہ اپنی جگہ چلا گیا، ( یہ دیکھ کر ) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے لیے یہ نشانی ( معجزہ ) ہی کافی ہے ۔
