Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا، مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ - قَالَ وَكِيعٌ كَانَ لاَ يَأْكُلُ اللَّحْمَ - قَالَ غَزَوْتُ مَعَ مَوْلاَىَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ فَلَمْ يَقْسِمْ لِي مِنَ الْغَنِيمَةِ وَأُعْطِيتُ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ سَيْفًا فَكُنْتُ أَجُرُّهُ إِذَا تَقَلَّدْتُهُ .
English Translation
‘Umair, the freed slave of Aabi Lahm – Waki’ said; - “He used to not eat meat” – said:“I fought alongside my master on the Day of Khaibar, and I was a slave. I was not given anything from the spoils of war but I was given from the least of the utensils (goods) a sword, which I dragged when I put it around my waist.”
Urdu Translation
محمد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے آبی اللحم ( وکیع کہتے ہیں کہ وہ گوشت نہیں کھاتے تھے ) کے غلام عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے سنا: وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے مالک کے ہمراہ خیبر کے دن جہاد کیا، چونکہ میں غلام تھا لہٰذا مجھے مال غنیمت میں حصہ نہیں ملا، صرف ردی چیزوں میں سے ایک تلوار ملی، جب اسے میں لٹکا کر چلتا تو ( وہ اتنی لمبی تھی ) کہ وہ گھسٹتی رہتی تھی ۱؎۔
