Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا عِنْدِي شَىْءٌ أُعْطِيكَهُ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ لاَ أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ فَجَرَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كَمْ تَسْتَنْظِرُهُ " . فَقَالَ شَهْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَأَنَا أَحْمِلُ لَهُ " . فَجَاءَهُ فِي الْوَقْتِ الَّذِي قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا " . قَالَ مِنْ مَعْدِنٍ قَالَ " لاَ خَيْرَ فِيهَا " . وَقَضَاهَا عَنْهُ .
English Translation
It is narrated by Hadrat Ibn 'Abbas (may Allah be well pleased with him):That during the time of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), a man pursued a debtor who owed him ten Dinar, and he said: “I do not have anything to give you.” He (the creditor) said: “No, by Allah, I will not leave you until you pay the debt or you bring me a guarantor.” Then he dragged him to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated to him: “How long will you wait?” He said: “One month.” The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: “I will be a guarantor for him.” Then he came to him at the time the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had said, and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated to him: “Where did you get this from?” He said: “From a mine.” He said: “There is nothing good in it,” and he paid the debt for him
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ایک شخص ایک قرض دار کے پیچھے لگا رہا جس پر اس کا دس دینار قرض تھا، وہ کہہ رہا تھا: میرے پاس کچھ نہیں جو میں تجھے دوں، اور قرض خواہ کہہ رہا تھا: جب تک تم میرا قرض نہیں ادا کرو گے یا کوئی ضامن نہیں لاؤ گے میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا، چنانچہ وہ اسے کھینچ کر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے قرض خواہ سے پوچھا: تم اس کو کتنی مہلت دے سکتے ہو ؟ اس نے کہا: ایک مہینہ کی، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو میں اس کا ضامن ہوتا ہوں ، پھر قرض دار نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دئیے ہوئے مقررہ وقت پر اپنا قرضہ لے کر آیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے یہ کہاں سے ملا ؟ اس نے عرض کیا: ایک کان سے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس میں بہتری نہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہوسلمد نے اسے اپنی جانب سے ادا کر دیا۔
