Arabic (Original)
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ أَقْرَأَنِي سَالِمٌ كِتَابًا كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الصَّدَقَاتِ قَبْلَ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ فَوَجَدْتُ فِيهِ " فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ثَلاَثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلاَثِمِائَةٍ فَإِذَا كَثُرَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ " . وَوَجَدْتُ فِيهِ " لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مَتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ " . وَوَجَدْتُ فِيهِ " لاَ يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ تَيْسٌ وَلاَ هَرِمَةٌ وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ " .
English Translation
It was narrated from Ibn Shihab, from Salim bin Abdullah, from his father, from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him):Salim said: “My father read to me a letter that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had written about Sadaqat before Allah caused him to pass away. I read in it: 'For forty sheep, one sheep, up to one hundred and twenty. If there is more than that - even one - then two sheep, up to two hundred, If there is one more than that - even one = then three sheep, up to three hundred. If there are many sheep, then for each hundred, one sheep.' And I read in it: 'Separate flocks should not be combined, and a combined flock should not be separated.' And I read in it: 'And a male goat should not be taken for Sadaqah, nor a decrepit nor defective animal.' ”
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم نے ایک تحریر پڑھائی جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے زکاۃ کے سلسلے میں اپنی وفات سے پہلے لکھوائی تھی، اس تحریر میں میں نے لکھا پایا: چالیس سے ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر ۱۲۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر ۲۰۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں ۳۰۰ تک تین بکریاں ہیں، اور اگر اس سے بھی زیادہ ہو تو ہر سو میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور میں نے اس میں یہ بھی پایا: متفرق مال اکٹھا نہ کیا جائے، اور اکٹھا مال متفرق نہ کیا جائے ، اور اس میں یہ بھی پایا: زکاۃ میں جفتی کے لیے مخصوص بکرا، بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے ۔
