Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَبَارَكَ، وَهُوَ قَائِمٌ. فَذَكَّرَنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ أَوْ أَبُو ذَرٍّ يَغْمِزُنِي. فَقَالَ: مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ. إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهَا إِلاَّ الآنَ . فَأَشَارَ إِلَيْهِ، أَنِ اسْكُتْ. فَلَمَّا انْصَرَفُوا قَالَ: سَأَلْتُكَ مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ فَلَمْ تُخْبِرْنِي؟ فَقَالَ أُبَىٌّ: لَيْسَ لَكَ مِنْ صَلاَتِكَ الْيَوْمَ إِلاَّ مَا لَغَوْتَ. فَذَهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ وَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي قَالَ أُبَىٌّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " صَدَقَ أُبَىٌّ " .
English Translation
‘Ata’ bin Yasar narrated from Hadrat Ubayy bin Ka’b:“The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) recited Tabarak [Al-Mulk (67)] one Friday, while he was standing and reminding us of the Days of Allah (i.e., preaching to us). Hadrat Abu Darda’ or Hadrat Abu Dharr raised an eyebrow at me and said: ‘When was this Surah revealed? For I have not heard it before now.’ He (Hadrat Ubayy) gestured to him that he should remain silent. When they finished, he said: ‘I asked you when this Surah was revealed and you did not answer me.” Hadrat Ubayy said: ‘You have gained nothing from your prayer today except the idle talk that you engaged in.’ He went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and told him about that, and what Hadrat Ubayy had said to him. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Hadrat 'Ubayy spoke the truth.’”
Urdu Translation
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن منبر پر کھڑے ہو کر سورۃ تبارک ( سورۃ الملک ) پڑھی، اور ہمیں اللہ عزوجل کی طرف سے گزشتہ قوموں پر پیش آنے والے اہم واقعات سے نصیحت کی، حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری جانب نظر سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی؟ میں نے تو یہ ابھی سنی ہے، تو ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو اشارہ کیا کہ خاموش رہو، جب وہ لوگ نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ میں نے آپ سے پوچھا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی تو آپ نے نہیں بتایا، ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آج آپ کو آپ کی نماز میں ان لغو باتوں کے سوا کچھ بھی اجر و ثواب نہیں ملے گا، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، اور ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو بات کہی تھی وہ بھی بتائی، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابی نے سچ کہا ۱؎۔
