Arabic (Original)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: ثناحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْأَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَعُثْمَانَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ، وَكَانَ فِي الدَّارِ مَدْخَلٌ، كَانَ مَنْ دَخَلَهُ سَمِعَ كَلامَ مَنْ عَلَى الْبَلاطِ، فَدَخَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَلِكَ الْمَدْخَلَ، فَخَرَجَ وَهُوَ مُتَغَيِّرٌ لَوْنُهُ، فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَيَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا، قُلْنَا: يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَلِمَ يَقْتُلُونَنِي؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إلا بِإِحْدَى ثَلاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا"، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلا إِسْلامٍ قَطُّ، وَلا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِيَ بِدِينِي بَدَلا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ لَهُ، وَلا قَتَلْتُ نَفْسًا، فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي؟.
English Translation
Narrated by Abu Umamah ibn Sahl: I was with Uthman (may Allah be pleased with him) when he was besieged in his house. There was an entrance in the house from which one could hear the speech of those on the paved area outside. Uthman entered through that passage, and came out with his face changed in color. He said: "They are threatening to kill me just now." We said: "Allah will suffice you against them, O Commander of the Believers." He said: "Why would they kill me? I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'It is not lawful to shed the blood of a Muslim except for one of three reasons: a man who disbelieves after accepting Islam, or commits adultery after being married, or kills a soul.' By Allah, I never committed adultery in the pre-Islamic period nor in Islam, and I never wished to exchange my religion since Allah guided me to it, and I never killed anyone. So for what reason would they kill me?"
Urdu Translation
ابو امامہ بن سہل کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ گھر میں محصور (قید) تھے، تو میں ان کے پاس تھا، گھر میں داخل ہونے کا ایک ایسا راستہ تھا، جو شخص اس میں سے داخل ہوتا تو وہ بلاط (مدینہ میں ایک جگہ ہے) پر ہونے والی باتیں سن سکتا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس میں سے داخل ہوئے، جب باہر آئے، تو ان کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا، انہوں نے فرمایا: وہ تو مجھے ابھی ابھی قتل کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ہم نے کہا: امیر المومنین! آپ کو اللہ تعالیٰ ان سے کافی ہو جائے گا، آپ نے فرمایا: وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا ہے: صرف تین وجوہات کی بنا پر کسی مسلمان کو قتل کرنا جائز ہے۔ جو اسلام لانے کے بعد کفر کرے جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے جو کسی کو ناحق قتل کر دے۔ اللہ کی قسم! میں نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں کبھی زنا کیا تھا اور نہ ہی اسلام میں اور جب سے مجھے اللہ تعالیٰ نے ہدایت (اسلام) سے نوازا ہے، میں نے کبھی دین بدلنے کے متعلق سوچا بھی نہیں اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، تو وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 836]
