Arabic (Original)
أَخْبَرَنَامُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّابْنَ وَهْبٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَنِيعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ،وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍورَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي حَرِيسَةِ الْحَبْلِ؟ قَالَ:" هِيَ وَمِثْلُهَا وَالنَّكَالُ، لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلا فِيمَا آوَاهُ الْمُرَاحُ، فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ، فَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتٌ نَكَالا" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟ فَقَالَ:" هُوَ وَمِثْلَيْهِ مَعَهُ وَالنَّكَالُ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ قَطْعٌ إِلا مَا آوَاهُ الْجَرِينُ، فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتٌ نَكَالا".
English Translation
Narrated Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them both): A man from the Muzaynah tribe came to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and asked: O Messenger of Allah, what do you say about livestock stolen from mountain pastures? He said: "The thief must return the animal and its equivalent, plus a disciplinary punishment. There is no amputation for any stolen livestock unless it was taken from an enclosure (pen), and its value reaches the price of a shield — then the hand is cut off. If it does not reach the price of a shield, then the penalty is a fine of double its value and lashes as a deterrent." The man asked: O Messenger of Allah, what about fruit still hanging on the tree? He said: "The thief must return it and its double along with it, plus a disciplinary punishment. There is no amputation for any fruit unless it was taken from the drying area (threshing floor). If it was taken from there and its value reaches the price of a shield, then the hand is cut off. If its value does not reach the price of a shield, then the penalty is a fine of double its value and lashes as a deterrent."
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مزینہ قبیلے کا ایک آدمی نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آکر پوچھنے لگا: اللہ کے رسول! آپ پہاڑ پر چرنے والے جانوروں کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ (یعنی اگر کوئی وہاں سے چوری کر لے، تو کیا حکم ہے؟) فرمایا: وہ جانور کے ساتھ جانور واپس کرے گا اور سزا بھی پائے گا، جانور چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ان جانوروں کے علاوہ جو باڑے کے اندر ہوں اور ان کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو، تو ان میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر ان کی قیمت ڈھال کی قیمت سے کم ہو، تو دو گنا تاوان لیا جائے گا اور بطور سزا کوڑے مارے جائیں گے۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! ان پھلوں کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں، جو درخت پر لٹک رہے ہوں؟ فرمایا: اس کے ساتھ دو گنا پھل واپس دے گا اور سزا بھی پائے گا، پھل چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ان پھلوں کے علاوہ جو کھلیان میں رکھے گئے ہوں، سو جو پھل کھلیان سے چرائے جائیں اور ان کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو، تو ان میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر ان کی قیمت ڈھال کی قیمت سے کم ہو، تو دو گنا تاوان لیا جائے گا اور بطور سزا کوڑے مارے جائیں گے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 827]
