Arabic (Original)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناأَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: ثناحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْسِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، فَقَالَ:" لا بَأْسَ إِذَا أَخَذْتَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ".
English Translation
Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated: I used to sell camels at al-Baqi', selling for dinars and receiving dirhams, or selling for dirhams and receiving dinars. I came to the Messenger of Allah (peace be upon him) while he was in the house of Hafsah (may Allah be pleased with her), and said: O Messenger of Allah, allow me to ask you — I sell camels at al-Baqi', selling for dinars and receiving dirhams, and selling for dirhams and receiving dinars. He said: "There is no harm in it, as long as you take the current exchange rate and do not part while anything remains unsettled between you."
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ بیچتا تھا، میں قیمت تو دیناروں میں طے کرتا اور وصولی درہموں میں کرتا اور اسی طرح قیمت درہموں میں طے کرتا اور وصولی دیناروں میں کرتا۔ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا، جب کہ آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، عرض کیا:”اے اللہ کے رسول! ذرا ٹھہریں! میں آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں، میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں، میں قیمت تو دیناروں میں طے کرتا ہوں اور وصولی درہموں میں کرتا ہوں، اسی طرح قیمت درہموں میں طے کرتا ہوں اور وصولی دیناروں میں کرتا ہوں۔“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ آپ اس دن کی موجودہ قیمت حاصل کریں اور آپس میں جدا ہونے سے پہلے پوری قیمت وصول کر لیں (یعنی کسی قسم کا ابہام نہ چھوڑیں)۔“[المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 655]
