Arabic (Original)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناعُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ: ثناأَبِي، عَنْأَبِي عُمَيْسٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِيعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، قَالَ: اشْتَرَى الأَشْعَثُ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمْسِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَيْهِ فِي ثَمَنِهِمْ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَخَذَتْهُمْ بِعَشَرَةِ آلافٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَاخْتَرْ رَجُلا يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، قَالَ الأَشْعَثُ: أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ، قَالَعَبْدُ اللَّهِ: فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَهُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَا".
English Translation
Muhammad ibn al-Ash'ath narrated: Al-Ash'ath bought slaves from the war spoils (the fifth) from Abdullah (may Allah be pleased with him) for twenty thousand. Abdullah sent for the payment, and al-Ash'ath said: I only took them for ten thousand. Abdullah said: Choose a man to arbitrate between us. Al-Ash'ath said: You be the judge between us. Abdullah said: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "When the buyer and seller disagree, the statement of the seller prevails, or they cancel the sale."
Urdu Translation
محمد بن اشعث رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے خمس کے غلاموں میں سے ایک غلام بیس ہزار کا خریدا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس قیمت کے لیے آدمی بھیجا، تو وہ کہنے لگے:”میں نے تو دس ہزار کا خریدا ہے۔“سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:”کوئی آدمی منتخب کر لیں، جو میرے اور آپ کے درمیان فیصلہ کر دے۔“اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا:”آپ ہی میرے اور اپنے درمیان فیصلہ کر دیں۔“عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:”میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا کہ وہ فرما رہے تھے: جب دو سودا کرنے والے آدمی آپس میں جھگڑ پڑیں اور ان کے پاس دلیل نہ ہو، تو سامان کے مالک کی بات معتبر ہوگی یا پھر دونوں بیع چھوڑ دیں گے۔“[المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 625]
