Arabic (Original)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَامَعْمَرٌ، عَنْهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: دَخَلَ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى عُمَيْرٍ الأَنْصَارِيِّ بِالشَّامِ، وَكَانَ عَامِلا لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ قَوْمًا مِنَ الأَنْبَاطِ مُشَمِّسِينَ، فَقَالَ: مَا بَالُ هَؤُلاءِ؟ قَالَ: حَبَسْتُهُمْ فِي الْجِزْيَةِ، فَقَالَهِشَامٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّالَّذِي يُعَذِّبُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا يُعَذِّبُهُ اللَّهُ فِي الآخِرَةِ"، فَخَلَّى عَنْهُمْ عُمَيْرٌ وَتَرَكَهُمْ.
English Translation
Urwah narrated: 'Hisham ibn Hakim (may Allah be pleased with him) went to Umayr al-Ansari in Syria, who was a governor appointed by Umar (may Allah be pleased with him). He found some Nabataean people standing in the sun. He asked: What is the matter with these people? He said: I have detained them for not paying the jizyah. Hisham said: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: Indeed, the one who tortures people in this world, Allah will torment him in the Hereafter. So Umayr released them and let them go.'
Urdu Translation
عروہ کہتے ہیں کہ ہشام بن حکیم رضی الله عنہ، عمیر انصاری کے پاس گئے جو کہ سیدنا عمر رضی الله عنہ کی طرف سے شام کے گورنر تھے۔ ان کے پاس کچھ نباٹ لوگوں کو دھوپ میں کھڑا پا کر ان سے پوچھا: ان کا کیا قصور ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ان کو جزیہ (نہ دینے) کے جرم میں روکا ہوا ہے۔ تو ہشام کہنے لگے: میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو دنیا میں لوگوں کو (بلا وجہ) تکلیف دیتا ہے آخرت کے دن الله تعالیٰ اسے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ چنانچہ عمیر نے ان کو آزاد کر دیا۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1106]
