Arabic (Original)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: ثناالْحَارِثُ بْنُ سَلْمَانَ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: ثناكُرْدُوسٌ، عَنِالأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلا مِنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ بِالْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا، فَقَالَ لِلْكِنْدِيِّ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: أَقُولُ: إِنَّهَا أَرْضٌ فِي يَدِي وَرِثْتُهَا مِنْ أَبِي، فَقَالَ لِلْحَضْرَمِيِّ: هَلْ لَكَ مِنْ بَيِّنَةٍ؟ قَالَ: لا، وَلَكِنْ لِيَحْلِفْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ، فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُلا يَقْتَطِعُ رَجُلٌ مَالا بِيَمِينِهِ إِلا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَجْذَمُ"، فَرَدَّهَا الْكِنْدِيُّ.
English Translation
Al-Ash'ath ibn Qays al-Kindi (may Allah be pleased with him) narrated from the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) that a man from Kindah and a man from Hadramawt disputed before the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) about land in Yemen. The Hadrami said: O Messenger of Allah, this man's father seized my land. He said to the Kindi: What do you say? He said: It is land in my possession that I inherited from my father. He said to the Hadrami: Do you have evidence? He said: No, but let him swear, O Messenger of Allah, by Allah besides Whom there is no god, that he does not know it is my land that his father seized from me. The Kindi prepared to swear, and the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said to him: "No one who seizes property by a false oath will meet Allah on the Day of Resurrection except that he will be maimed." So the Kindi returned the land.
Urdu Translation
سیدنا اشعث بن قیس کندی رضی اللہ عنہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے بیان کرتے ہیں کہ کندہ اور حضرموت سے ایک ایک آدمی اپنی یمن کی زمین کے متعلق مقدمہ لے کر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرمی کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس (کندی) کے والد نے میری زمین پر ناجائز قبضہ کر لیا تھا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے کندی سے فرمایا: آپ کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا: میں یہ کہتا ہوں کہ زمین میرے قبضے میں ہے اور مجھے اپنے باپ سے ورثہ میں ملی ہے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے حضرمی سے پوچھا: کیا آپ کے پاس کوئی دلیل ہے؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول! دلیل تو نہیں ہے، لیکن یہ اس ذات کی قسم کھائے، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہ نہیں جانتا یہ زمین میری ہے، اس کے والد نے مجھ سے زبردستی چھین لی تھی۔ کندی قسم کے لیے تیار ہوا، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: جو بھی (جھوٹی) قسم کے ذریعے کسی سے مال چھینتا ہے، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ملے گا، تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا۔ تو کندی نے زمین اسے واپس کر دی۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1005]
