Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَيْرُوتَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَخِي أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّ��مٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ زَيْدٍ الْبِكَالِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ يَقُولُ قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ مَا فَاكِهَةُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ «فِيهَا شَجَرَةٌ تُدْعَى طُوبَى» فَقَالَ أَيُّ شَجَرِنَا تُشْبِهُ قَالَ «لَيْسَ تُشْبِهُ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ أَرْضِكَ وَلَكِنْ أَتَيْتَ الشَّامَ؟ » قَالَ لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ «وَإِنَّهَا شَجَرَةٌ بِالشَّامِ تُدْعَى الْجُمَيْزَةَ تَشْتَدُّ عَلَى سَاقٍ ثُمَّ يُنْشَرُ أَعْلَاهَا» قَالَ مَا عِظَمُ أَصْلِهَا؟ قَالَ «لَوِ ارْتَحَلْتَ جَذَعَةً مِنْ إِبِلِ أَهْلِكَ مَا أَحَطْتَ بِأَصْلِهَا حَتَّى تَنْكَسِرَ تُرْقُوَتَاهَا هَرَمًا»
English Translation
Muhammad ibn Abdullah ibn Abd al-Salam narrated to us in Beirut, saying: Muhammad ibn Khalaf al-Dari narrated to us, saying: Ma'mar ibn Ya'mar narrated to us, saying: Mu'awiyah ibn Sallam narrated to us, saying: My brother narrated to us that he heard Abu Sallam say: Amir ibn Zayd al-Bikali narrated to me that he heard Hadrat Utbah ibn Abd al-Sulami say: A Bedouin stood up to the Messenger of Allah ﷺ and said: What is the fruit of Paradise? He said: «In it is a tree called Tuba.» He said: Which of our trees does it resemble? He said: «It does not resemble any tree from the trees of your land, but have you been to Syria?» He said: No, O Messenger of Allah. He said: «It is a tree in Syria called the sycamore that grows thick upon a trunk, then spreads out at the top.» He said: How great is its trunk? He said: «If you were to mount a young she-camel from your family's camels, you would not encircle its trunk until her collarbones would break from old age.»
Urdu Translation
محمد بن عبداللہ بن عبدالسلام نے ہمیں بیروت میں خبر دی، کہا: محمد بن خلف داری نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: معمر بن یعمر نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: معاویہ بن سلام نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: میرے بھائی نے ہمیں حدیث سنائی کہ انہوں نے ابو سلام کو سنا، کہا: عامر بن زید بکالی نے مجھے حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت عُتبہ بن عبد سُلَمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: ایک بدّو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور عرض کی: جنت کا پھل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «اس میں ایک درخت ہے جسے طوبیٰ کہا جاتا ہے۔» اس نے کہا: ہمارے کس درخت سے یہ ملتا ہے؟ آپ نے فرمایا: «یہ تمہاری زمین کے کسی درخت سے نہیں ملتا، لیکن کیا تم شام گئے ہو؟» اس نے کہا: نہیں یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا: «وہ شام میں ایک درخت ہے جسے جُمیزہ کہتے ہیں جو ایک تنے پر موٹا ہوتا ہے پھر اوپر کی طرف پھیل جاتا ہے۔» اس نے کہا: اس کی جڑ کی موٹائی کتنی ہے؟ آپ نے فرمایا: «اگر تم اپنے گھر کی اونٹنیوں میں سے ایک جوان اونٹنی پر سوار ہو تو تم اس کی جڑ کا طواف مکمل نہیں کر سکو گے یہاں تک کہ بڑھاپے سے اس کی ہنسلیاں ٹوٹ جائیں گی۔»
