Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ* حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ ﷺ بِقَتْلَى بَدْرٍ فَسُحِبُوا إِِلَى الْقَلِيبِ فَطُرِحُوا فِيهِ ثُمَّ جَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ تُكَلِّمُ قَوْمًا مَوْتَى قَالَ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ مَا وَعَدْتُهُمْ حَقًّا فَلَمَّا رَأَى أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ أَبَاهُ يُسْحَبُ إِِلَى الْقَلِيبِ عَرَفَ رَسُولُ اللهِ ﷺ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ كَأَنَّكَ كَارِهٌ لِمَا تَرَى فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِِنَّ أَبِي كَانَ رَجُلا سَيِّدًا حَلِيمًا فَرَجَوْتُ أَنْ يَهْدِيَهُ اللَّهُ إِِلَى الإِِسْلامِ فَلَمَّا وَقَعَ بِالْمَوْقِعِ الَّذِي وَقَعَ بِهِ أَحْزَنَنِي ذَلِكَ فَدَعَا رَسُولُ اللهِ ﷺ لأَبِي حُذَيْفَةَ بِخَيْرٍ
English Translation
Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ordered that the slain of Badr be dragged to the well and thrown in. Then he came and stood over them and said: "O people of the well, have you found what your Lord promised you to be true? For I have found what my Lord promised me to be true." They said: O Messenger of Allah, do you speak to dead people? He stated: "They know that what I promised them was true." When Abu Hudhayfah ibn Utbah saw his father being dragged to the well, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saw displeasure on his face and said: "It seems you are displeased by what you see." He said: O Messenger of Allah, my father was a noble and forbearing chief, and I had hoped that Allah would guide him to Islam. But when he met the fate he met, it grieved me. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) supplicated for Abu Hudhayfah with good.
Urdu Translation
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے مقتولین کو کنوئیں کی طرف گھسیٹنے اور اس میں ڈالنے کا حکم دیا۔ پھر آپ آئے اور ان پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: "اے کنوئیں والو! کیا تم نے اپنے رب کا وعدہ سچا پایا؟ میں نے تو اپنے رب کا وعدہ سچا پایا۔" صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مردوں سے بات کرتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: "وہ جان گئے ہیں کہ جو میں نے ان سے وعدہ کیا تھا وہ حق تھا۔" جب ابو حذیفہ بن عتبہ نے اپنے والد کو کنوئیں کی طرف گھسیٹے جاتے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے چہرے پر ناگواری دیکھی اور فرمایا: "لگتا ہے تم جو دیکھ رہے ہو اسے ناپسند کر رہے ہو۔" عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے والد سردار اور بردبار تھے، مجھے امید تھی اللہ انہیں اسلام کی ہدایت دے گا۔ جب وہ اس انجام کو پہنچے تو مجھے غم ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ابو حذیفہ کے لیے خیر کی دعا فرمائی۔
