Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَرَجَعَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ فَقَالَ مَا رَدَّكَ؟ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ» فَقَالَ لِتَجِئْنِي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ وَإِلَّا قَالَ حَمَّادٌ تَوَعَّدَهُ قَالَ فَانْصَرَفَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَأَتَى مَجْلِسَ الْأَنْصَارِ فَقَصَّ عَلَيْهِمُ الْقِصَّةَ مَا قَالَ لِعُمَرَ وَمَا قَالَ لَهُ عُمَرُ فَقَالُوا لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُنَا فَقَامَ مَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَشَهِدَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّا لَا نَتَّهِمُكَ وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ شَدِيدٌ
English Translation
It is narrated from Abdullah ibn Abi Salamah that Hadrat Abu Musa (may Allah be well pleased with him) sought permission from Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him) three times, but was not granted entry, so he returned. When 'Umar learned of this, he asked: «What made you go back?» He replied: «I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) state: 'When one of you seeks permission three times and is not granted, let him return.'» 'Umar said: «You must bring me evidence for this, or else» — Hammad said he threatened him. Abu Musa went to the assembly of the Ansar and told them the story. They said: «Only the youngest among us shall go with you.» So Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) went with him and testified. 'Umar said: «We do not suspect you, but narrating from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) is a serious matter.»
Urdu Translation
عبداللہ بن ابی سلمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تین بار اجازت مانگی لیکن اجازت نہیں ملی تو واپس چلے گئے۔ عمر کو پتا چلا تو فرمایا: «تم واپس کیوں گئے؟» انہوں نے کہا: «میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی تین بار اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو واپس چلا جائے۔» عمر نے فرمایا: «اس پر گواہی لاؤ ورنہ» — حماد نے کہا آپ نے دھمکی دی۔ ابوموسیٰ انصار کی مجلس میں گئے اور انہیں قصہ سنایا۔ انہوں نے کہا: «ہم میں سے سب سے چھوٹا ہی تمہارے ساتھ جائے گا۔» تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ گئے اور گواہی دی۔ عمر نے فرمایا: «ہم تم پر الزام نہیں لگاتے لیکن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بیان کرنا سنگین معاملہ ہے۔»
