Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ ذَلِكَ الْجَيْشِ فَجُمِعَ كُلُّهُ فَكَانَ مِزْوَدَ تَمْرٍ فَكَانَ يُقَوِّتُنَا كُلَّ يَوْمٍ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّى فَنِيَ وَلَمْ يُصِبْنَا إِلَّا تَمْرَةً تَمْرَةً فَقُلْتُ وَمَا تُغْنِي تَمْرَةٌ قَالَ لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حَيْثُ فَنِيَتْ قَالَ ثُمَّ انْتَهَى إِلَى الْبَحْرِ فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ فَأَكَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْجَيْشُ إِحْدَى عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلْعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِّلَتْ ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا وَلَمْ تُصِبْهُمَا»
English Translation
Hadrat Jabir ibn Abdullah (may Allah be well pleased with him) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent an expedition towards the coast and appointed Hadrat Abu Ubaydah ibn al-Jarrah (may Allah be well pleased with him) as our commander. They were three hundred, and I was among them. We set out until we were partway on the road when the provisions ran out. Abu Ubaydah ordered all the provisions of the army to be collected. It all amounted to a bag of dates. He would ration us a little each day until it ran out, and we would receive only one date each. I asked: What good was one date? He said: We truly felt its loss when it was finished. Then we reached the sea, and there was a fish (whale) like a hillock. The army ate from it for eleven nights. Then Abu Ubaydah ordered two ribs from its ribs to be set up, then ordered a she-camel to be saddled, and it passed under them without touching them.
Urdu Translation
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ساحل کی طرف ایک لشکر بھیجا اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہمارا امیر مقرر فرمایا۔ وہ تین سو تھے اور میں ان میں شامل تھا۔ ہم نکلے یہاں تک کہ راستے میں ہی زادِ راہ ختم ہو گیا۔ ابو عبیدہ نے لشکر کا سارا زادِ راہ جمع کرنے کا حکم دیا۔ وہ سب ملا کر ایک تھیلا کھجوریں بنا۔ وہ ہمیں روزانہ تھوڑی تھوڑی دیتے یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہو گئیں اور ہمیں صرف ایک ایک کھجور ملتی تھی۔ میں نے پوچھا: ایک کھجور سے کیا ہوتا تھا؟ فرمایا: جب وہ ختم ہوئیں تو ہم نے ان کی کمی محسوس کی۔ پھر ہم سمندر تک پہنچے تو ایک مچھلی (وہیل) ٹیلے جیسی تھی۔ لشکر نے اس سے گیارہ راتیں کھایا۔ پھر ابو عبیدہ نے اس کی دو پسلیاں کھڑی کروائیں، پھر ایک اونٹنی پر کجاوا رکھوایا تو وہ ان کے نیچے سے بغیر چھوئے گزر گئی۔
