Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ بِالصُّغْدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «مَا يَخْفَى عَلَيَّ حِينَ تَكُونِينَ غَضْبَى وَحِينَ تَكُونِينَ رَاضِيَةً إِذَا كُنْتِ غَضْبَى قُلْتِ لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ وَإِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً قُلْتُ لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ» فَقُلْتُ صَدَقْتَ إِنَّمَا أَهْجُرُ اسْمَكَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوَ نَزَلْتَ وَادِيًا فِيهِ شَجَرٌ كَثِيرٌ قَدْ أُكِلَ مِنْهَا وَوَجَدْتَ شَجَرَةً لَمْ يُؤْكَلْ مِنْهَا فِي أَيِّهَا كُنْتَ تَرْتَعُ بَعِيرَكَ؟ قَالَ «فِي الَّذِي لَمْ يُرْتَعْ فِيهَا» تُرِيدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا
English Translation
Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said to her: "It is not hidden from me when you are angry and when you are pleased. When you are angry, you say, 'No, by the Lord of Ibrahim!' And when you are pleased, you say, 'No, by the Lord of Muhammad!'" She said: I replied, "You have spoken the truth. I only abandon your name (when angry)." She then said: "O Messenger of Allah, if you were to descend into a valley with many trees, some of which had been grazed upon and you found a tree that had not been grazed upon, which one would you let your camel graze on?" He stated: "The one that had not been grazed upon." She meant that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had not married any virgin other than her.
Urdu Translation
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: «مجھ سے یہ پوشیدہ نہیں کہ تم کب ناراض ہوتی ہو اور کب خوش ہوتی ہو۔ جب تم ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم! اور جب خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم!» میں نے عرض کیا: آپ نے سچ فرمایا، میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں (ناراضگی میں)۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کسی وادی میں اتریں جہاں بہت سے درخت ہوں، جن میں سے بعض چرے ہوئے ہوں اور آپ کو ایک ایسا درخت ملے جو چرا ہوا نہ ہو تو آپ اپنا اونٹ کس میں چرائیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: «اس میں جو چرا ہوا نہ ہو۔» ان کی مراد یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سوا کسی کنواری سے نکاح نہیں فرمایا۔
