Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِمَكَّةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلُمَّ إِلَى حِصْنٍ وَعَدَدٍ وَعِدَّةٍ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ حِصْنٌ فِي رَأْسِ الْجَبَلِ لَا يُؤْتَى إِلَّا فِي مِثْلِ الشِّرَاكِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «أَمَعَكَ مَنْ وَرَاءَكَ؟ » قَالَ لَا أَدْرِي فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو مُهَاجِرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ رَهْطِهِ فَحُمَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ حِمَّى شَدِيدَةً فَجَزِعَ فَأَخَذَ شَفْرَةً فَقَطَعَ بِهَا رَوَاجِبَهُ فَتَشَخَّبَتْ حَتَّى مَاتَ فَدُفِنَ ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى الطُّفَيْلِ بْنِ عَمْرٍو فِي شَارَةٍ حَسَنَةٍ وَهُوَ مُخَمِّرٌ يَدَهُ فَقَالَ لَهُ الطُّفَيْلُ أَفُلَانٌ؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ كَيْفَ فَعَلْتَ؟ قَالَ صَنَعَ بِي رَبِّي خَيْرًا غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ ﷺ قَالَ فَمَا فَعَلَتْ يَدَاكَ؟ قَالَ قَالَ لِي رَبِّي لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ مِنْ نَفْسِكَ قَالَ فَقَصَّ الطُّفَيْلُ رُؤْيَاهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَدَيْهِ «اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ»
English Translation
Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him) narrated: Al-Tufayl ibn 'Amr al-Dawsi came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) in Makkah and submitted: "O Messenger of Allah, come to a fortress with provisions and strength" — Abu al-Zubayr said: a fortress on top of a mountain that can only be reached through a path as narrow as a sandal strap. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) asked him: "Do those behind you support you?" He said: "I do not know." So the Prophet turned away from him. When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came to Madinah, al-Tufayl ibn 'Amr came as an emigrant with a man from his clan. That man fell severely ill and became impatient, so he took a blade and cut his finger joints, and they bled until he died. He was buried, then he came in a dream to al-Tufayl ibn 'Amr in a fine appearance with his hand wrapped. Al-Tufayl asked him: "Is that you, so-and-so?" He said: "Yes." He asked: "What happened to you?" He said: "My Lord treated me well and forgave me on account of my emigration to His Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)." He asked: "What happened to your hand?" He said: "My Lord said to me: 'We shall not mend what you yourself have ruined.'" Al-Tufayl narrated his dream to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) raised his hands and prayed: "O Allah, and for his hands, forgive! O Allah, and for his hands, forgive! O Allah, and for his hands, forgive!"
Urdu Translation
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: طفیل بن عمرو دوسی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مکہ میں آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک قلعے، سامان اور قوت کی طرف تشریف لائیں — ابوالزبیر نے کہا: پہاڑ کی چوٹی پر ایک قلعہ جہاں تسمے جتنے تنگ راستے سے ہی جایا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: "کیا تمہارے پیچھے والے تمہارے ساتھ ہیں؟" انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ تو آپ نے ان سے اعراض فرمایا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو طفیل بن عمرو ہجرت کر کے آئے اور ان کے ساتھ ان کے قبیلے کا ایک آدمی تھا۔ اس آدمی کو شدید بخار ہوا اور وہ بے صبر ہو گیا، اس نے چھری لے کر اپنی انگلیوں کے جوڑ کاٹ لیے، خون بہتا رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ اسے دفنایا گیا، پھر وہ خواب میں طفیل بن عمرو کے پاس آیا، اچھی حالت میں اور ہاتھ ڈھکے ہوئے۔ طفیل نے پوچھا: کیا تو فلاں ہے؟ کہا: ہاں۔ پوچھا: تیرے ساتھ کیا ہوا؟ کہا: میرے رب نے میرے ساتھ بھلائی کی اور اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کی وجہ سے مجھے بخش دیا۔ پوچھا: تیرے ہاتھوں کا کیا ہوا؟ کہا: میرے رب نے فرمایا: جو تو نے اپنا خود بگاڑا ہے وہ ہم درست نہیں کریں گے۔ طفیل نے اپنا خواب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو سنایا تو آپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی: "اے اللہ! اس کے ہاتھوں کو بھی بخش دے! اے اللہ! اس کے ہاتھوں کو بھی بخش دے! اے اللہ! اس کے ہاتھوں کو بھی بخش دے!"
