Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقَدْامِ الْعِجْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ لَيَأْخُذَنَّ رَجُلٌ بِيَدِ أَبِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرِيدُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ فَيُنَادَى إِنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا مُشْرِكٌ إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ الْجَنَّةَ عَلَى كُلِّ مُشْرِكٍ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَيْ رَبِّ أَبِي قَالَ فَيَتَحَوَّلُ فِي صُورَةٍ قَبِيحَةٍ وَرِيحٍ مُنْتِنَةٍ فَيَتْرُكُهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ يَرَوْنَ أَنَّهُ إِبْرَاهِيَمُ وَلَمْ يَزِدْهُمْ رَسُولُ اللهِ ﷺ عَلَى ذَلِكَ
English Translation
Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "A man shall surely take his father by the hand on the Day of Resurrection, wishing to admit him to Paradise, and it shall be called out: 'Indeed, Paradise — no polytheist shall enter it! Indeed, Allah has forbidden Paradise to every polytheist.' He shall say: 'O my Lord, O my Lord, my father!' His father shall then be transformed into an ugly appearance with a foul odor, and the son shall leave him." Hadrat Abu Sa'id (may Allah be well pleased with him) said: "The Companions of Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) used to believe that this referred to Ibrahim, but the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) did not add anything more to that."
Urdu Translation
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «قیامت کے دن ضرور ایک شخص اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے گا اور اسے جنت میں داخل کرنا چاہے گا، تو ندا آئے گی: بے شک جنت میں کوئی مشرک داخل نہیں ہوگا! بے شک اللہ نے ہر مشرک پر جنت حرام کر دی ہے۔ وہ کہے گا: اے میرے رب، اے میرے رب، میرا باپ! تو اس کا باپ بدصورت شکل اور بدبودار بو میں بدل جائے گا، اور وہ اسے چھوڑ دے گا۔» حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اصحاب محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سمجھتے تھے کہ یہ ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے زیادہ کچھ نہیں فرمایا۔
