Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ ﷺ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فَيَؤُمُّهُمْ قَالَ فَأَخَّرَ النَّبِيُّ ﷺ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى مَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَتَقَدَّمَ لَيَؤُمَّنَا فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ تَنَحَّى فَصَلَّى وَحْدَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُلْنَا لَهُ مَا لَكَ يَا فُلَانُ أَنَافَقْتَ؟ قَالَ مَا نَافَقْتُ وَلَآتِيَنَّ النَّبِيَّ ﷺ فَلَأُخْبِرَنَّهُ فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الْعِشَاءَ الْبَارِحَةَ فَصَلَّى مَعَكَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَتَقَدَّمَ لَيَؤُمَّنَا فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَنَحَّيْتُ فَصَلَّيْتُ وَحْدِي أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ وَإِنَّمَا نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ «أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا وَسُورَةِ كَذَا»
English Translation
Hadrat Jabir ibn Abdullah (may Allah be well pleased with them both) narrated: Hadrat Mu'adh ibn Jabal (may Allah be well pleased with him) used to pray with the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), then return to his people and lead them in prayer. One night, the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) delayed the Isha prayer. Hadrat Mu'adh (may Allah be well pleased with him) prayed with him, then returned to us and came forward to lead us, and he began reciting Surah al-Baqarah. When a man from the congregation saw that, he stepped aside and prayed alone, then departed. We said to him: What is the matter with you, O so-and-so? Have you become a hypocrite? He said: I have not become a hypocrite, and I shall certainly go to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and inform him. So he went to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: O Messenger of Allah, Mu'adh prays with you then returns and leads us. You delayed the Isha prayer last night, then he prayed with you and returned to us and came forward to lead us and began reciting Surah al-Baqarah. When I saw that, I stepped aside and prayed alone, O Messenger of Allah, for we are owners of water-camels and we work with our hands. The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Are you a cause of trial, O Mu'adh? Are you a cause of trial, O Mu'adh? Recite such-and-such a surah and such-and-such a surah."
Urdu Translation
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے پھر اپنی قوم کے پاس واپس جاتے اور ان کی امامت کراتے۔ ایک رات حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز دیر سے پڑھائی۔ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی پھر ہمارے پاس واپس آئے اور امامت کے لیے آگے بڑھے تو سورۃ البقرہ شروع کر دی۔ جب قوم کے ایک آدمی نے یہ دیکھا تو الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی اور چلا گیا۔ ہم نے اس سے کہا: تجھے کیا ہوا اے فلاں! کیا تو منافق ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: میں منافق نہیں ہوا اور میں ضرور حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور آپ کو بتاؤں گا۔ پس وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں پھر واپس آ کر ہماری امامت کراتے ہیں۔ کل رات آپ نے عشاء دیر سے پڑھائی تو انہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی پھر ہمارے پاس آئے اور امامت کے لیے آگے بڑھے تو سورۃ البقرہ شروع کر دی۔ جب میں نے یہ دیکھا تو میں الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی، یا رسول اللہ! ہم اونٹ پانی پلانے والے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے؟ اے معاذ! کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے؟ فلاں فلاں سورت پڑھا کرو۔
