Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ الْحَافِظُ ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ ثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ لَمَّا بَايَعَ مُعَاوِيَةُ لِابْنِهِ يَزِيدَ قَالَ مَرْوَانُ سُنَّةُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ سُنَّةُ هِرَقْلَ وَقَيْصَرَ فَقَالَ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا} [الأحقاف 17] الْآيَةَ قَالَ فَبَلَغَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ كَذَبَ وَاللَّهِ مَا هُوَ بِهِ وَلَكِنْ «رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَعَنَ أَبَا مَرْوَانَ وَمَرْوَانُ فِي صُلْبِهِ» فَمَرْوَانُ قَصَصٌ مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ ﷻ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» فيه انقطاع
English Translation
Muhammad ibn Ziyad narrated: When Mu'awiyah took the pledge of allegiance for his son Yazid, Marwan said: It is the practice of Abu Bakr and Umar. So Hadrat Abd al-Rahman ibn Abi Bakr (may Allah be well pleased with him) said: It is the practice of Heraclius and Caesar. Marwan said: Allah revealed concerning you: 'And the one who said to his parents: Fie upon you both!' (al-Ahqaf: 17). This reached Umm al-Mu'minin Hadrat A'ishah (may Allah be well pleased with her), and she said: He has lied! By Allah, it is not about him. But the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) cursed the father of Marwan while Marwan was still in his loins. So Marwan is an offshoot of the curse of Allah (glorified and exalted is He). This hadith is authentic upon the condition of the two Shaykhs, and they did not narrate it. There is a break in its chain.
Urdu Translation
محمد بن زیاد نے بیان کیا: جب حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے یزید کے لیے بیعت لی تو مروان نے کہا: یہ ابوبکر اور عمر کا طریقہ ہے۔ تو حضرت عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ ہرقل اور قیصر کا طریقہ ہے۔ مروان نے کہا: اللہ نے تمہارے بارے میں نازل کیا: 'اور جس نے اپنے والدین سے کہا: تف ہے تم پر!' (الاحقاف: ۱۷)۔ یہ بات اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تک پہنچی تو فرمایا: اس نے جھوٹ بولا! بخدا یہ ان کے بارے میں نہیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مروان کے باپ پر لعنت فرمائی جبکہ مروان اس کی صلب میں تھا۔ پس مروان اللہ عزوجل کی لعنت کا ٹکڑا ہے۔ یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور انہوں نے روایت نہیں کیا۔ اس میں انقطاع ہے۔
