Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ثنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ثنا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَالَ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» صَلَّى الرَّكْعَةَ الْآخِرَةَ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ وَكَانَ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِل��ى الْإِسْلَامِ فَقَتَلُوهُمْ قَالَ عِكْرِمَةُ هَذَا مِفْتَاحُ الْقُنُوتِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ» على شرط البخاري
English Translation
'Ali ibn Hamshad narrated to us — Isma'il ibn Ishaq al-Qadi narrated to us — 'Arim ibn al-Fadl narrated to us — Thabit ibn Yazid narrated to us — Hilal ibn Khabbab narrated to us — from 'Ikrimah — from Hadrat Ibn 'Abbas (may Allah be well pleased with them both) who said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) performed the qunut [supplication] for a consecutive month in Zuhr, 'Asr, Maghrib, 'Isha', and Fajr prayers — at the end of each prayer, when he said 'Sami'Allahu liman hamidah' in the last rak'ah — supplicating against a clan of Banu Sulaym: against Ri'l, Dhakwan, and 'Usayyah, and those behind him would say 'Amin.' He had sent messengers to them inviting them to Islam, but they killed them. 'Ikrimah said: 'This is the key [origin] of the qunut.' This is a hadith whose chain is authentic according to the criteria of al-Bukhari, yet they did not record it with this wording.
Urdu Translation
علی بن حمشاذ نے ہم سے بیان کیا — اسماعیل بن اسحاق القاضی نے ہم سے بیان کیا — عارم بن الفضل نے ہم سے بیان کیا — ثابت بن یزید نے ہم سے بیان کیا — ہلال بن خباب نے ہم سے بیان کیا — عکرمہ سے — حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ماہ مسلسل ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں میں قنوت فرمائی — ہر نماز کے آخر میں، جب آخری رکعت میں سمع اللہ لمن حمدہ فرماتے — بنو سلیم کے ایک قبیلے: رعل، ذکوان اور عصیہ کے خلاف بد دعا فرماتے، اور آپ کے پیچھے والے آمین کہتے تھے۔ آپ نے ان کی طرف قاصد بھیجے تھے جو انہیں اسلام کی دعوت دیتے، لیکن انہوں نے ان قاصدوں کو قتل کر دیا۔ عکرمہ نے کہا: 'یہ قنوت کی ابتداء ہے۔' یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے مگر انہوں نے اسے ان الفاظ سے روایت نہیں کیا۔
