Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا اسْتَشَارَهُمْ فِي مِيرَاثِ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ قَالَ زَيْدٌ «وَكَانَ رَأْيِي أَنَّ الْإِخْوَةَ أَوْلَى بِالْمِيرَاثِ مِنَ الْجَدِّ وَكَانَ عُمَرُ يَرَى يَوْمَئِذٍ أَنَّ الْجَدَّ أَوْلَى بِمِيرَاثِ ابْنِ أَبِيهِ مِنْ إِخْوَتِهِ» قَالَ زَيْدٌ «فَحَاوَرْتُ أَنَا عُمَرَ فَضَرَبْتُ لِعُمَرَ فِي ذَلِكَ مَثَلًا وَ��َرَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ لِعُمَرَ مَثَلًا يَوْمَئِذٍ السَّيْلَ يَضْرِبَانِهِ وَيَصْرِفَانِهِ عَلَى نَحْوِ تَصْرِيفِ زَيْدٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ على شرط البخاري ومسلم
English Translation
Hadrat Zayd ibn Thabit (may Allah be well pleased with him) narrated that when Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) consulted them regarding the inheritance of the grandfather with brothers, Zayd said: "My view was that the brothers are more entitled to inheritance than the grandfather, while Umar at that time held that the grandfather was more entitled to the inheritance of a man's son than his brothers." Zayd said: "I debated with Umar and gave him an example. And Hadrat Ali ibn Abi Talib al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) and Hadrat Abdullah ibn Abbas (may Allah be well pleased with them) gave Umar the example of a flood, directing it in a manner similar to Zayd's direction." This is a hadith that meets the criteria of both al-Bukhari and Muslim, though neither recorded it. [Meets the criteria of al-Bukhari and Muslim].
Urdu Translation
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دادا اور بھائیوں کی میراث کے بارے میں ان سے مشورہ کیا تو زید نے کہا: «میری رائے یہ تھی کہ بھائی دادا سے زیادہ میراث کے حقدار ہیں، جبکہ عمر اس وقت یہ رائے رکھتے تھے کہ دادا اپنے بیٹے کی میراث میں اس کے بھائیوں سے زیادہ حقدار ہے۔» زید نے فرمایا: «میں نے عمر سے بحث کی اور انہیں ایک مثال دی۔ اور حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عمر کو اس دن سیلاب کی مثال دی اور اسے زید کی تصریف کی طرح موڑا۔» یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ بخاری و مسلم کی شرط پر۔
