Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ بِهَمْدَانَ ثَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ ثَنَا أَبِي ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ لِصُهَيْبٍ إِنَّكَ لَرَجُلٌ لَوْلَا خِصَالٌ ثَلَاثَةٌ قَالَ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ اكْتَنَيْتَ وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ وَانْتَمَيْتَ إِلَى الْعَرَبِ وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنَ الرُّومِ وَفِيكَ سَرَفٌ فِي الطَّعَامِ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَّا قَوْلُكَ اكْتَنَيْتَ وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَنَّانِي أَبَا يَحْيَى وَأَمَّا قَوْلُكُ انْتَمَيْتَ إِلَى الْعَرَبِ وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنَ الرُّومِ فَإِنِّي رَجُلٌ مِنَ النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ اسْتُبِيتُ مِنَ الْمَوْصِلِ بَعْدَ أَنْ كُنْتُ غُلَامًا قَدْ عَرَفْتُ أَهْلِي وَنَسَبِي وَأَمَّا قَوْلُكَ فِيكَ سَرَفٌ فِي الطَّعَامِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «إِنَّ خَيْرَكُمْ مَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ»
English Translation
Hadrat Suhayb (may Allah be well pleased with him) narrated that Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) said to him: "You would be a good man were it not for three traits." He asked: 'What are they?' He said: "You have taken a kunyah though you have no children, you claim Arab lineage though you are a Roman, and you are extravagant in food." He replied: 'O Commander of the Faithful, as for your saying I have taken a kunyah though I have no children, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave me the kunyah Abu Yahya. As for your saying I claim Arab lineage though I am a Roman, I am a man from al-Namir ibn Qasit who was captured from Mosul when I was a young boy, and I know my family and lineage. As for your saying I am extravagant in food, I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: "The best of you is the one who feeds others."'
Urdu Translation
حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے فرمایا: "تم اچھے آدمی ہوتے اگر تین خصلتیں نہ ہوتیں۔" عرض کیا: 'وہ کیا ہیں؟' فرمایا: "تم نے کنیت رکھ لی حالانکہ تمہاری اولاد نہیں، تم عرب سے نسبت جوڑتے ہو حالانکہ تم رومی ہو، اور تم کھانے میں فضول خرچی کرتے ہو۔" انہوں نے عرض کیا: 'اے امیرالمومنین! جو آپ نے فرمایا کہ میں نے کنیت رکھی حالانکہ اولاد نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ابویحییٰ کی کنیت دی۔ جو آپ نے فرمایا کہ عرب سے نسبت جوڑتا ہوں حالانکہ رومی ہوں تو میں نمر بن قاسط کا آدمی ہوں جو موصل سے پکڑا گیا جب میں چھوٹا بچہ تھا، مجھے اپنا خاندان اور نسب معلوم ہے۔ اور جو آپ نے فرمایا کہ کھانے میں فضول خرچی ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: "تم میں بہترین وہ ہے جو کھانا کھلائے۔"'
