Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللَّهُ بِبَغْدَادَ ثَنَا أَبُو دَاودَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ قَالَا ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ أَنَّ نَاسًا سَأَلُوا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَنْ يُكَلِّمَ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ قَدْ كَلَّمْنَاهُ مَا دُونَ أَنْ يَفْتَحَ بَابًا أَنْ لَا يَكُونَ أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ مَا أَقُولُ أُمَرَاؤُكُمْ خِيَارُكُمْ بَعْدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ يُؤْتَى بِالْوَالِي الَّذِي كَانَ يُطَاعُ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ﷻ فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ فَيُقْذَفُ فِيهَا فَتَنْدَلِقُ بِهِ أَقْتَابُهُ يَعْنِي أَمْعَاءَهُ فَيَسْتَدِيرُ فِيهَا كَمَا يَسْتَدِيرُ الْحِمَارُ فِي الرَّحَا فَيَأْتِي عَلَيْهِ أَهْلُ طَاعَتِهِ مِنَ النَّاسِ فَيَقُولُونَ لَهُ أَيْ فُلْ أَيْنَ مَا كُنْتَ تَأْمُرُنَا؟ فَيَقُولُ كُنْتُ آمُرُكُمْ بِأَمْرٍ وَأُخَالِفُكُمْ إِلَى غَيْرِهِ
English Translation
It is narrated that some people asked Hadrat Usamah ibn Zayd (may Allah be well pleased with him) to speak to Hadrat Uthman ibn Affan (may Allah be well pleased with him) on their behalf. He said: 'We have already spoken to him privately, without opening a door that I would not want to be the first to open. I do not say that your rulers are the best among you after what I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say.' They asked: 'What did you hear him say?' He said: 'A man shall be brought on the Day of Resurrection and cast into the Fire, and his intestines shall spill out, and he shall go around in them as a donkey goes around a millstone. The people of the Fire shall gather around him and say: O so-and-so, what happened to you? Did you not command us to do good and forbid us from evil? He shall say: I used to command you to do good but not do it myself, and I used to forbid you from evil but do it myself.'
Urdu Translation
روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ ہماری طرف سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بات کریں۔ انہوں نے فرمایا: ہم نے ان سے خفیہ طور پر بات کی ہے، بغیر ایسا دروازہ کھولے جس کا پہلا کھولنے والا میں نہیں بننا چاہتا۔ جو بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اس کے بعد میں یہ نہیں کہتا کہ تمہارے حکمران تم میں بہترین ہیں۔ لوگوں نے پوچھا: آپ نے کیا سنا؟ انہوں نے فرمایا: ایک شخص کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور آگ میں ڈالا جائے گا، اس کی آنتیں باہر نکل آئیں گی اور وہ ان میں اس طرح گھومے گا جیسے گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے۔ اہل جہنم اس کے گرد جمع ہوں گے اور کہیں گے: اے فلاں، تجھے کیا ہوا؟ کیا تو ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور برائی سے نہیں روکتا تھا؟ وہ کہے گا: میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا تھا مگر خود نہیں کرتا تھا، اور تمہیں برائی سے روکتا تھا مگر خود کرتا تھا۔
