Arabic (Original)
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ إِمْلَاءً فِي الْجَامِعِ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ قَالَا ثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَرَّانِيُّ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ مُحَمَّدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ امْرَأَةِ عُثْمَانَ وَبِيَدِهَا مُشْطٌ فَقَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ عِنْدِي آنِفًا رَجَّلْتُ رَأْسَهُ فَقَالَ لِي «كَيْفَ تَجِدِينَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟» قُلْتُ ب��خَيْرٍ قَالَ «أَكْرِمِيهِ فَإِنَّهُ مِنْ أَشْبَهِ أَصْحَابِي بِي خُلُقًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَاهِي الْمَتْنِ فَإِنَّ رُقَيَّةَ مَاتَتْ سَنَةَ ثَلَاثٍ مِنَ الْهِجْرَةِ عِنْدَ فَتْحِ بَدْرٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّمَا أَسْلَمَ بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَقَدْ كَتَبْنَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ صحيح منكر المتن
English Translation
Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) narrated: "I visited Ruqayyah, daughter of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), the wife of Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him), and she had a comb in her hand. She said: 'The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) just left my presence. I had combed his hair and he said to me: How do you find Abu Abdullah?' I said: 'Well.' He stated: 'Honour him, for he is the most similar of my companions to me in character.'" Al-Hakim said: This hadith has an authentic chain but a weak text, for Ruqayyah died in the third year of the Hijrah at the time of Badr, whereas Abu Hurayrah only accepted Islam after the conquest of Khaybar, and Allah knows best.
Urdu Translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: "میں رقیہ، حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ، کے پاس حاضر ہوا اور ان کے ہاتھ میں کنگھی تھی۔ انہوں نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ابھی میرے پاس سے تشریف لے گئے ہیں۔ میں نے ان کے بال سنوارے تھے تو آپ نے مجھ سے فرمایا: تم ابوعبداللہ کو کیسا پاتی ہو؟ میں نے عرض کیا: بخیریت۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ان کی تعظیم کرو کیونکہ وہ میرے صحابہ میں سے اخلاق میں مجھ سے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔" حاکم نے کہا: اس حدیث کی سند صحیح ہے مگر متن ضعیف ہے کیونکہ رقیہ تیسری ہجری میں بدر کے وقت فوت ہوئیں جبکہ ابوہریرہ فتح خیبر کے بعد مسلمان ہوئے، واللہ اعلم۔
