Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ أَبِي فَرْوَةَ الرَّهَاوِيِّ ثَنَا أَبُو يَحْيَى الْكَلَاعِيُّ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمَيْمَةَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَتْ كُنْتُ يَوْمًا أُفْرِغُ عَلَى يَدَيْهِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِي فَأَوْصِنِي بِوَصِيَّةٍ أَحْفَظْهَا فَقَالَ «لَا تُشْرِكَنَّ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ بِالنَّارِ وَلَا تَعْصِيَنَّ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تُخَلِّيَ مِنْ أَهْلِكَ وَدُنْيَاكَ فَتَخَلَّ وَلَا تَتْرُكْ صَلَاةً مُتَعَمِّدًا فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ ﷻ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ ﷺ وَلَا تَشْرَبَنَّ الْخَمْرَ فَإِنَّهَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ وَلَا تَزْدَدْ فِي تُخُومٍ فَإِنَّكَ تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَى عُنُقِكَ مِقْدَارُ سَبْعِ أَرَضِينَ وَلَا تَفِرَّنَّ يَوْمَ الزَّحْفِ فَإِنَّهُ مَنْ فَرَّ يَوْمَ الزَّحْفِ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ وَأَنْفِقْ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ طَوْلِكَ وَلَا تَرْفَعْ عَصَاكَ عَنْهُمْ وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ ﷻ» دَخَلْتُ عَلَى أُمَيْمَةَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَتْ كُنْتُ يَوْمًا أُفْرِغُ عَلَى يَدَيْهِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِي فَأَوْصِنِي بِوَصِيَّةٍ أَحْفَظْهَا فَقَالَ «لَا تُشْرِكَنَّ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ بِالنَّارِ وَلَا تَعْصِيَنَّ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تُخَلِّيَ مِنْ أَهْلِكَ وَدُنْيَاكَ فَتَخَلَّ وَلَا تَتْرُكْ صَلَاةً مُتَعَمِّدًا فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ ﷻ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ ﷺ وَلَا تَشْرَبَنَّ الْخَمْرَ فَإِنَّهَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ وَلَا تَزْدَدْ فِي تُخُومٍ فَإِنَّكَ تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَى عُنُقِكَ مِقْدَارُ سَبْعِ أَرَضِينَ وَلَا تَفِرَّنَّ يَوْمَ الزَّحْفِ فَإِنَّهُ مَنْ فَرَّ يَوْمَ الزَّحْفِ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ وَأَنْفِقْ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ طَوْلِكَ وَلَا تَرْفَعْ عَصَاكَ عَنْهُمْ وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ ﷻ»
English Translation
Jubayr ibn Nufayr narrated: "I visited Umaymah, the freed servant of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). She said: 'One day I was pouring water on his hands while he was performing ablution, when a man entered upon him and said: O Messenger of Allah, I wish to return to my family, so give me a comprehensive piece of advice that I may preserve. He stated: Do not associate anything with Allah even if you are cut to pieces and burnt with fire. Do not disobey your parents even if they command you to leave your family and your worldly possessions, then leave them. Do not deliberately abandon prayer, for whoever deliberately abandons prayer, the protection of Allah the Exalted and His Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) is removed from him. Do not drink wine, for it is the root of every sin. Do not encroach upon boundaries, for you will come on the Day of Resurrection with the weight of seven earths upon your neck. Do not flee on the day of battle, for whoever flees on the day of battle has earned the wrath of Allah and his abode is Hell — what an evil destination. Spend upon your family from your wealth, do not lift your stick from them, and instill in them the fear of Allah the Exalted.'"
Urdu Translation
جبیر بن نفیر نے بیان کیا: "میں اُمیمہ کے پاس حاضر ہوا جو حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آزاد کردہ خادمہ تھیں۔ انہوں نے کہا: ایک دن میں آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہی تھی جبکہ آپ وضو فرما رہے تھے، اتنے میں ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے اہل کے پاس واپس جانا چاہتا ہوں، مجھے ایسی جامع وصیت فرمائیں جو میں یاد رکھوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا خواہ تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے اور آگ سے جلایا جائے۔ اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرنا خواہ وہ تمہیں حکم دیں کہ اپنے اہل اور دنیا سے دستبردار ہو جاؤ تو ہو جاؤ۔ جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑنا کیونکہ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذمہ داری بری ہو جاتی ہے۔ شراب نہ پینا کیونکہ وہ ہر خطا کی جڑ ہے۔ حدوں میں تجاوز نہ کرنا کیونکہ تو قیامت کے دن آئے گا اور تیری گردن پر سات زمینوں کے برابر بوجھ ہوگا۔ جنگ کے دن فرار نہ ہونا کیونکہ جو جنگ کے دن فرار ہوا وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہوا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ اپنے اہل پر اپنے مال سے خرچ کرو، اپنا عصا ان سے نہ اٹھاؤ، اور انہیں اللہ تعالیٰ کا خوف دلاؤ۔"
