Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ ثَنَا أَبُو عُلَاثَةَ ثَنَا أَبِي ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُ��ْوَةَ قَالَ كَانَتْ نَفْحَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَنَّ مُحَمَّدًا ﷺ قَدْ أُخِذَ فَسَمِعَ بِذَلِكَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ ابْنُ إِحْدَى عَشْرَةَ سَنَةَ فَخَرَجَ بِالسَّيْفِ مَسْلُولًا حَتَّى وَقَفَ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ «مَا شَأْنُكَ؟» فَقَالَ أَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ مَنْ أَخَذَكَ فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ ﷺ وَلِسَيْفِهِ وَكَانَ أَوَّلَ سَيْفٍ سُلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ﷻ
English Translation
Abu Ja'far al-Baghdadi informed us, Abu Ulatha narrated to us, my father narrated to us, Ibn Lahi'a narrated to us from Abu al-Aswad, from Urwa who said: "There was a false rumor spread by Satan that Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) had been seized. Hadrat al-Zubayr (may Allah be well pleased with him) heard of it when he was eleven years old. He went out with a drawn sword until he stood before the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He stated: 'What is the matter with you?' He submitted: 'I wanted to strike whoever seized you.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) prayed for him and for his sword. It was the first sword drawn in the cause of Allah the Exalted."
Urdu Translation
ابو جعفر بغدادی نے ہمیں خبر دی، ابو علاثہ نے ہمیں بیان کیا، میرے والد نے ہمیں بیان کیا، ابن لہیعہ نے ابو الاسود سے، عروہ سے روایت کیا، فرمایا: «شیطان کی طرف سے ایک جھوٹی خبر پھیلی کہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑ لیا گیا ہے۔ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سنا جبکہ وہ گیارہ سال کے تھے۔ وہ ننگی تلوار لے کر نکلے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ ارشاد فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ عرض کیا: میں اسے مارنا چاہتا تھا جس نے آپ کو پکڑا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے اور ان کی تلوار کے لیے دعا فرمائی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں نیام سے نکالی جانے والی پہلی تلوار تھی۔»
