Arabic (Original)
أَخْبَرَنِي أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ثَنَا أَبُو قِلَابَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ جُنْدُبٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ لِأَطْلُبَ الْعِلْمَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا؟ قَالُوا هَذَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَتَبِعْتُهُ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَضَرَبْتُ عَلَيْهِ الْبَابَ فَخَرَجَ فَزَبَرَنِي وَكَهَرَنِي فَاسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ فَقُلْتُ «اللَّهُمَّ إِنَّا نَشْكُوهُمْ إِلَيْكَ نُنْفِقُ نَفَقَاتِنَا وَنُتْعِبُ أَبْدَانَنَا وَنُرَحِّلُ مَطَايَانَا ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ فَإِذَا لَقِينَاهُمْ كَرِهُونَا» فَقَالَ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ لَأَتَكَلَّمَنَّ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لَا أَخَافُ فِيهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَمِيسِ غَدَوْتُ فَإِذَا الطُّرُقُ غَاصَّةٌ فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ الْيَوْمَ؟ قَالُوا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ قُلْتُ أَجَلْ قَالُوا مَاتَ سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ لَئِنْ أَخَّرْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ لَأَتَكَلَّمَنَّ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لَا أَخَافُ فِيهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَمِيسِ غَدَوْتُ فَإِذَا الطُّرُقُ غَاصَّةٌ فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ الْيَوْمَ؟ قَالُوا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ قُلْتُ أَجَلْ قَالُوا مَاتَ سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ
English Translation
Abu Sahl Ahmad ibn Muhammad ibn Ziyad informed me, Abu Qilaba narrated to us who said: My father narrated to me who said: Ja'far ibn Sulayman narrated to me from Abu Imran al-Jawni from Jundub who said: I came to Medina seeking knowledge. I entered the mosque and there was a man with people gathered around him. I asked: 'Who is this?' They said: 'This is Ubayy ibn Ka'b.' I followed him and he entered his house. I knocked on his door and he came out and rebuked me harshly. I turned toward the Qibla and said: 'O Allah, we complain to You about them - we spend our wealth, exhaust our bodies, and journey on our mounts seeking knowledge, yet when we meet them they are unkind to us.' He said: 'If you give me until Friday, I shall speak of what I heard from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), fearing no blame from any blamer.' When Thursday came, I went out and the roads were packed. I asked: 'What is the matter with the people today?' They said: 'It seems you are a stranger.' I said: 'Yes.' They said: 'The master of the Muslims, Ubayy ibn Ka'b, has died.'
Urdu Translation
ابو سہل احمد بن محمد بن زیاد نے مجھے خبر دی، ابو قلابہ نے ہمیں بیان کیا، فرمایا: میرے والد نے مجھے بیان کیا، فرمایا: جعفر بن سلیمان نے مجھے ابو عمران جونی سے، انہوں نے جندب سے روایت کیا، فرمایا: میں علم کی تلاش میں مدینہ آیا۔ مسجد میں داخل ہوا تو ایک شخص تھے اور لوگ ان کے گرد جمع تھے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ ابی بن کعب ہیں۔ میں ان کے پیچھے گیا اور وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے۔ میں نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا تو وہ باہر آئے اور مجھے ڈانٹا اور جھڑکا۔ میں نے قبلہ کی طرف منہ کیا اور کہا: اے اللہ! ہم ان کی شکایت تیرے حضور کرتے ہیں، ہم اپنے مال خرچ کرتے ہیں، اپنے بدن تھکاتے ہیں اور اپنی سواریاں تلاش علم میں روانہ کرتے ہیں، پھر جب ان سے ملتے ہیں تو وہ ہمیں ناپسند کرتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: اگر تم مجھے جمعہ تک مہلت دو تو میں ضرور وہ بات کہوں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور اس میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈروں گا۔ جب جمعرات کا دن آیا تو میں نکلا تو راستے کھچاکھچ بھرے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا: آج لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا: لگتا ہے تم اجنبی ہو۔ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: سید المسلمین ابی بن کعب کا انتقال ہو گیا۔
