Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ قَالَا ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أ��حُدٍ وَأَصْحَابُهُ حَوْلَهُ فَقَالَ «مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ؟» فَبَسَطُوا أَيْدِيَهُمْ يَقُولُ هَذَا أَنَا وَيَقُولُ هَذَا أَنَا فَقَالَ «مَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ؟» فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ فَقَالَ سِمَاكٌ أَبُو دُجَانَةَ أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَفَلَقَ بِهِ يَوْمَئِذٍ هَامَ الْمُشْرِكِينَعلى شرط مسلم أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ وَأَصْحَابُهُ حَوْلَهُ فَقَالَ «مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ؟» فَبَسَطُوا أَيْدِيَهُمْ يَقُولُ هَذَا أَنَا وَيَقُولُ هَذَا أَنَا فَقَالَ «مَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ؟» فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ فَقَالَ سِمَاكٌ أَبُو دُجَانَةَ أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَفَلَقَ بِهِ يَوْمَئِذٍ هَامَ الْمُشْرِكِينَعلى شرط مسلم
English Translation
Narrated from Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) took a sword on the Day of Uhud while his Companions were around him and stated: "Who will take this sword?" They stretched out their hands, each one saying: "I will! I will!" Then the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Who will take it with its due right?" The people held back. Then Simak Abu Dujanah (may Allah be well pleased with him) said: "I will take it with its due right." So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave it to him, and he split the skulls of the polytheists with it that day. This hadith is authentic according to the conditions of Muslim.
Urdu Translation
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ احد کے دن ایک تلوار اٹھائی جبکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کے گرد تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تلوار کون لے گا؟ سب نے اپنے ہاتھ بڑھائے، ہر ایک کہہ رہا تھا: میں لوں گا، میں لوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے اس کے حق کے ساتھ کون لے گا؟ تو لوگ رک گئے۔ پھر سماک ابو دجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں اسے اس کے حق کے ساتھ لوں گا۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے وہ تلوار انہیں عنایت فرمائی اور انہوں نے اس دن اس سے مشرکین کے سر پھاڑ دیے۔ یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
