Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ ثنا أَبِي ثنا غَيْلَانُ بْنُ جَامِعٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِذْ سَمِعَ صَائِحَةً فَقَالَ «يَا يَرْفَأُ انْظُرْ مَا هَذَا الصَّوْتُ؟» فَانْطَلَقَ فَنَظَرَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ جَارِيَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ تُبَاعُ أُمُّهَا قَالَ فَقَالَ عُمَرُ ادْعُ لِي أَوْ قَالَ عَلَيَّ بِالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ قَالَ فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا سَاعَةً حَتَّى امْتَلَأَتِ الدَّارُ وَالْحُجْرَةُ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ «أَمَّا بَعْدُ فَهَلْ تَعْلَمُونَهُ كَانَ مِمَّا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ ﷺ الْقَطِيعَةُ» قَالُوا لَا قَالَ فَإِنَّهَا قَدْ أَصْبَحَتْ فِيكُمْ فَاشِيَةً ثُمَّ قَرَأَ {فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ} [محمد 22] ثُمَّ قَالَ وَأَيُّ قَطِيعَةٍ أَقْطَعُ مِنْ أَنْ تُبَاعَ أُمُّ امْرِئٍ فِيكُمْ وَقَدْ أَوْسَعَ اللَّهُ لَكُمْ؟ قَالُوا فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ قَالَ «فَكَتَبَ فِي الْآفَاقِ أَنْ لَا تُبَاعَ أُمُّ حُرٍّ فَإِنَّهَا قَطِيعَةٌ وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ»
English Translation
Abd Allah ibn Ja'far ibn Darastawayh al-Farisi informed us — Ya'qub ibn Sufyan al-Farisi narrated to us — Yahya ibn Ya'la ibn al-Harith narrated to us — my father narrated to us — Ghaylan ibn Jami' narrated to us — from Ibrahim ibn Harb — from Abd Allah ibn Burayda — from his father who said: I was sitting with Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) when he heard a woman cry out. He said: O Yarfa', go and see what this voice is. He went and looked, then came back and said: A girl from Quraysh whose mother is being sold. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said: Summon the Muhajirun and the Ansar to me. He said: It was not long before the house and the chamber were filled. He praised Allah and glorified Him, then said: Is it among what Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) brought that there should be severing of ties? They said: No. He said: Indeed, it has become widespread among you. Then he recited: {Would you then, if you were given authority, spread corruption in the land and sever your ties of kinship?} [Muhammad 22]. Then he said: And what severing of ties is worse than selling the mother of one among you when Allah has made you prosperous? They said: Do as you see fit. He said: So he wrote to all regions that the mother of a free person must not be sold, for indeed it is a severing of ties, and it is not permissible.
Urdu Translation
عبد اللہ بن جعفر بن درستویہ الفارسی نے ہمیں خبر دی — یعقوب بن سفیان الفارسی نے ہم سے بیان کیا — یحییٰ بن یعلیٰ بن الحارث نے ہم سے بیان کیا — میرے والد نے ہم سے بیان کیا — غیلان بن جامع نے ہم سے بیان کیا — ابراہیم بن حرب سے — عبد اللہ بن بریدہ سے — اُن کے والد سے روایت ہے کہ فرمایا: میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ اُنہوں نے ایک عورت کی چیخ سنی۔ فرمایا: اے یرفأ! جاؤ دیکھو یہ کیسی آواز ہے؟ وہ گئے اور دیکھ کر آئے اور کہا: قریش کی ایک لڑکی ہے جس کی ماں بیچی جا رہی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: مہاجرین اور انصار کو میرے پاس بلاؤ۔ فرمایا: تھوڑی ہی دیر میں گھر اور حجرہ بھر گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی پھر فرمایا: اما بعد! کیا تم جانتے ہو کہ جو کچھ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لائے اُس میں قطع رحمی تھی؟ اُنہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: یہ تم میں پھیل چکی ہے۔ پھر تلاوت فرمائی: {پھر کیا تمہارا یہ حال ہوگا کہ اگر تم کو حکومت ملے تو تم زمین میں فساد پھیلاؤ اور رشتے ناطے توڑو} [محمد 22]۔ پھر فرمایا: اور کون سی قطع رحمی اس سے بڑھ کر ہے کہ تمہارے درمیان کسی شخص کی ماں بیچی جائے جبکہ اللہ نے تمہیں فراخی دی ہے؟ اُنہوں نے کہا: آپ جو مناسب سمجھیں کریں۔ فرمایا: پس اُنہوں نے تمام علاقوں میں لکھوایا کہ آزاد شخص کی ماں نہ بیچی جائے کیونکہ یہ قطع رحمی ہے اور حلال نہیں۔
