Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ثنا سُفْيَانُ ثنا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنِ ابْنِ تَدْرُسَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} [المسد 1] أَقْبَلَتِ الْعَوْرَاءُ أُمُّ جَمِيلِ بِنْتُ حَرْبٍ وَلَهَا وَلْوَلَةٌ وَفِي يَدِهَا فِهْرٌ وَهِيَ تَقُولُ مُذَمَّمًا أَبَيْنَا وَدِينَهُ قَلَيْنَا وَأَمْرَهُ عَصَيْنَا وَالنَّبِيُّ ﷺ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا رَآهَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَقْبَلَتْ وَأَنَا أَخَافُ أَنْ تَرَاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «إِنَّهَا لَنْ تَرَانِي» وَقَرَأَ قُرْآنًا فَاعْتَصَمَ بِهِ كَمَا قَالَ وَقَرَأَ {وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا} [الإسراء 45] فَوَقَفَتْ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَلَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَتْ يَا أَبَا بَكْرٍ إِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ صَاحِبَكَ هَجَانِي فَقَالَ لَا وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا هَجَاكِ فَوَلَّتْ وَهِيَ تَقُولُ قَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ أَنِّي بِنْتُ سَيِّدِهَا
English Translation
Hadrat Asma bint Abi Bakr (may Allah be well pleased with her) narrated: When the verse 'Perish the hands of Abu Lahab' (al-Masad: 1) was revealed, the one-eyed Umm Jamil bint Harb came wailing with a stone in her hand, saying: 'We reject Mudhammam, we abhor his religion, and we disobey his command.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was sitting in the mosque with Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him). When Abu Bakr saw her, he submitted: O Messenger of Allah, she is coming and I fear she may see you. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Indeed, she will not see me,' and he recited the Qur'an seeking protection through it, as Allah said: 'And when you recite the Qur'an, We place between you and those who do not believe in the Hereafter a hidden barrier' (al-Isra: 45). She stopped before Abu Bakr but could not see the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and said: O Abu Bakr, I have been told that your companion has satirized me. He said: No, by the Lord of this House, he has not satirized you. She turned away saying: Quraysh knows well that I am the daughter of their chief.
Urdu Translation
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب آیت 'ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹیں' (المسد: 1) نازل ہوئی تو کانی اُمّ جمیل بنت حرب چیختی چلاتی آئی اور اس کے ہاتھ میں پتھر تھا اور وہ کہہ رہی تھی: ہم مذمّم کو رد کرتے ہیں، اس کے دین سے نفرت کرتے ہیں اور اس کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے دیکھا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ آ رہی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ آپ کو دیکھ لے گی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 'وہ مجھے ہرگز نہیں دیکھے گی' اور آپ نے قرآن پڑھا اور اس سے پناہ لی جیسا کہ اللہ نے فرمایا: 'اور جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک پوشیدہ پردہ ڈال دیتے ہیں' (الاسراء: 45)۔ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آ کر کھڑی ہوئی اور اسے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نظر نہ آئے۔ اس نے کہا: اے ابو بکر! مجھے بتایا گیا ہے کہ تمہارے ساتھی نے میری ہجو کی ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: نہیں، اس گھر کے رب کی قسم! انہوں نے تمہاری ہجو نہیں کی۔ وہ یہ کہتی ہوئی پلٹ گئی کہ قریش جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں۔
