Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ثنا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ اسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي الْأُسَارَى أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ قَوْمُكَ وَعَشِيرَتُكَ فَخَلِّ سَبِيلَهُمْ فَاسْتَشَارَ عُمَرُ فَقَالَ اقْتُلْهُمْ قَالَ فَفَدَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ﷻ {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ} [الأنفال 67] إِلَى قَوْلِهِ {فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا} [الأنفال 69] قَالَ فَلَقِيَ النَّبِيُّ ﷺ عُمَرَ قَالَ كَادَ أَنْ يُصِيبَنَا فِي خِلَافِكَ بَلَاءٌ
English Translation
Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) consulted Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) regarding the prisoners of war (of Badr). Abu Bakr said: They are your people and your clan, so let them go. Then he consulted Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him), who said: Kill them. So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ransomed them. Then Allah Almighty revealed {It is not for a prophet to have captives until he inflicts a massacre in the land} [al-Anfal 67] to {So consume what you have taken of war booty as lawful and good} [al-Anfal 69]. Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) met Hadrat Umar and stated: We were about to be afflicted with a calamity due to opposing your counsel.
Urdu Translation
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (بدر کے) قیدیوں کے بارے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ کیا۔ انہوں نے عرض کیا: یہ آپ کی قوم اور خاندان ہیں، انہیں چھوڑ دیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ کیا، انہوں نے عرض کیا: انہیں قتل کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا {کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں خوب خون نہ بہا لے} [الانفال 67] سے {تو جو غنیمت تم نے حاصل کی ہے اسے حلال اور پاکیزہ سمجھ کر کھاؤ} [الانفال 69] تک۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت عمر سے ملے اور ارشاد فرمایا: تمہاری مخالفت کی وجہ سے قریب تھا کہ ہم پر عذاب آ جاتا۔
