Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ ثنا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا} [النساء 154] قَالَ «بَابًا ضَيِّقًا» قَالَ «رُكَّعًا» {وَقُولُوا حِطَّةٌ} [البقرة 58] قَالَ مَغْفِرَةً فَقَالُوا حِنْطَةٌ وَدَخَلُوا عَلَى أَسْتَاهِهِمْ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ} [البقرة 59]
English Translation
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with him) regarding 'Enter the gate prostrating' (Al-Baqarah: 58) said: 'A narrow gate.' He said: 'Bowing.' And 'Say: Relieve us of our burdens' means forgiveness. But they said 'Hintah' (wheat) instead and entered dragging themselves on their backs. That is the saying of Allah the Exalted: 'But those who wronged changed the words to a statement other than that which had been said to them' (Al-Baqarah: 59). This hadith is sound upon the condition of Bukhari and they did not report it.
Urdu Translation
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے 'دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو' (البقرۃ: ۵۸) کے بارے میں فرمایا: ایک تنگ دروازہ تھا۔ فرمایا: جھکتے ہوئے۔ اور 'حطۃ کہو' کا مطلب مغفرت ہے۔ مگر انہوں نے 'حنطۃ' (گندم) کہا اور اپنی پشت پر گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے۔ پس یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ظالموں نے اس بات کو بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی (البقرۃ: ۵۹)۔ یہ حدیث بخاری کی شرط پر صحیح ہے اور انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
