Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ جُنْدُبٍ قَالَ «أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ لِأَتَعَلَّمَ الْعِلْمَ فَلَمَّا دَخَلْتُ مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِذَا النَّاسُ فِيهِ حِلَقٌ يَتَحَدَّثُونَ» قَالَ فَجَعَلْتُ أَمْضِي حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى حَلْقَةٍ فِيهَا رَجُلٌ شَاحِبٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ كَأَنَّمَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ هَلَكَ أَصْحَابُ الْعِقْدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ وَلَا آسَى عَلَيْهِمْ يَقُولُهَا ثَلَاثًا هَلَكَ أَصْحَابُ الْعِقْدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ هَلَكَ أَصْحَابُ الْعِقْدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ هَلَكَ أَصْحَابُ الْعِقْدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَتَحَدَّثَ مَا قُضِيَ لَهُ ثُمَّ قَامَ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا هَذَا سَيِّدُ النَّاسِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ فَتَبِعْتُهُ حَتَّى أَتَى مَنْزِلَهُ فَإِذَا هُوَ رَثُّ الْمَنْزِلِ رَثُّ الْكِسْوَةِ رَثُّ الْهَيْئَةِ يُشْبِهُ أَمْرُهُ بَعْضُهُ بَعْضًا فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ قَالَ ثُمَّ سَأَلَنِي مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ أَكْثَرُ شَيْءٍ سُؤَالًا وَغَضِبَ قَالَ فَاسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ ثُمَّ جَثَوْتُ عَلَى رُكْبَتِي وَرَفَعْتُ يَدَيَّ هَكَذَا وَمَدَّ ذِرَاعَيْهِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ إِنَّا نَشْكُوهُمْ إِلَيْكَ إِنَّا نُنْفِقُ نَفَقَاتِنَا وَنُنْصِبُ أَبْدَانَنَا وَنُرَجِّلُ مَطَايَانَا ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ فَإِذَا لَقِينَاهُمْ تَجَهَّمُوا لَنَا وَقَالُوا لَنَا قَالَ فَبَكَى أُبَيٌّ وَجَعَلَ يَتَرَضَّانِي وَيَقُولُ وَيْحَكَ إِنِّي لَمْ أَذْهَبْ هُنَاكَ ثُمَّ قَالَ أُبَيٌّ أُعَاهِدُكَ لَإِنْ أَبْقَيْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ لَأَتَكَلَّمَنَّ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لَا أَخَافُ فِيهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ قَالَ «ثُمَّ انْصَرَفْتُ عَنْهُ وَجَعَلْتُ أَنْتَظِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَمِيسِ خَرَجْتُ لِبَعْضِ حَاجَتِي فَإِذَا الطُّرُقُ مَمْلُوءَةٌ مِنَ النَّاسِ لَا آخُذُ فِي سِكَّةٍ إِلَّا اسْتَقْبَلَنِي النَّاسُ» قَالَ فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ؟ قَالُوا إِنَّا نَحْسِبُكَ غَرِيبًا قَالَ قُلْتُ «أَجَلْ» قَالُوا مَاتَ سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ «فَلَقِيتُ أَبَا مُوسَى بِالْعِرَاقِ فَحَدَّثْتُهُ» فَقَالَ هَلَّا كَانَ يَب��قَى حَتَّى تُبَلِّغَنَا مَقَالَتَهُ
English Translation
Jundub (may Allah be well pleased with him) narrated: I came to Medina seeking knowledge. When I entered the mosque of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), people were sitting in circles. I kept walking until I reached a circle with a pale man wearing two garments as if he had just returned from a journey. I heard him saying: 'The people of contracts have perished, by the Lord of the Ka'ba! I do not grieve for them'—he said it three times. I sat with him. He spoke what Allah willed, then stood up. I asked about him and they said: 'This is the master of the people, Ubayy ibn Ka'b.' I followed him to his house, which was shabby with shabby clothing. He asked me where I was from. I said: 'From Iraq.' He said: 'The most questioning people!'—and became angry. I prayed and said: 'O Allah, we complain to You. We spend our money, exhaust ourselves, and ride our mounts seeking knowledge, and when we meet them, they frown at us.' Ubayy wept and began trying to please me, saying: 'Woe to you, I did not mean that.' Then he said: 'I pledge that if Allah keeps me alive until Friday, I will speak what I heard from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), fearing no blame.' I waited for Friday, but on Thursday the streets were filled with people. They said: 'The master of the Muslims, Ubayy ibn Ka'b, has died.' I later met Abu Musa in Iraq and told him. He said: 'If only he had lived to convey his words to us!'
Urdu Translation
حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: میں علم حاصل کرنے مدینہ آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں داخل ہوا تو لوگ حلقوں میں بیٹھے تھے۔ میں چلتا رہا یہاں تک کہ ایک حلقے میں ایک پیلے چہرے والا شخص تھا جس پر دو کپڑے تھے گویا سفر سے آیا ہو۔ اُسے کہتے سنا: عقدوں والے ہلاک ہوئے، رب کعبہ کی قسم! مجھے اُن پر افسوس نہیں — تین بار۔ میں بیٹھ گیا۔ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ لوگوں کے سردار اُبَی بن کعب ہیں۔ میں اُن کے پیچھے اُن کے گھر گیا — بوسیدہ گھر، بوسیدہ لباس۔ پوچھا: کہاں کے ہو؟ عرض کیا: عراق کا۔ فرمایا: سب سے زیادہ سوال کرنے والے — اور ناراض ہوئے۔ میں نے قبلہ رُخ ہو کر دعا کی: اے اللہ! ہم اِن کی شکایت کرتے ہیں۔ ہم خرچ کرتے ہیں، بدن تھکاتے ہیں، سواریاں سدھاتے ہیں علم کی تلاش میں، اور جب ملتے ہیں تو ہمیں جھڑکتے ہیں۔ اُبَی رو پڑے اور مجھے منانے لگے۔ فرمایا: میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ پھر فرمایا: عہد کرتا ہوں اگر اللہ نے مجھے جمعہ تک زندہ رکھا تو وہ بات ضرور کہوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنی، کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈروں گا۔ جمعہ کا انتظار کیا، جمعرات کو سڑکیں لوگوں سے بھری تھیں۔ بتایا: مسلمانوں کے سردار اُبَی بن کعب کا انتقال ہو گیا۔ بعد میں عراق میں ابو موسیٰ سے ملا اور بتایا۔ انہوں نے فرمایا: کاش! وہ زندہ رہتے تاکہ ہمیں اپنی بات پہنچاتے۔
