Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ وَأَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِيُّ قَالَا ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ثنا أَبُو الْأَصْبَغِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ ابْنَ عُمَرَ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ وَهَمَ إِنَّمَا كَانَ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُمْ أَهْلُ وَثَنٍ مَعَ هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْيَهُودِ وَهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ كَانُوا يَرَوْنَ لَهُمْ فَضْلًا عَلَيْهِمْ فَكَانُوا يَقْتَدُونَ بِكَثِيرٍ مِنْ فِعْلِهِمْ وَكَانَ مِنْ أَمْرِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَنْ لَا يَأْتُوا النِّسَاءَ إِلَّا عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ وَذَلِكَ أَسْتَرُ مَا تَكُونُ الْمَرْأَةُ فَكَانَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ أَخَذُوا بِذَلِكَ مِنْ فِعْلِهِمْ وَكَانَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ يَشْرَحُونَ النِّسَاءَ شَرْحًا مُنْكَرًا وَيَتَلَذَّذُونَ مِنْهُنَّ مُقْبِلَاتٍ وَمُدْبِرَاتٍ وَمُسْتَلْقِيَاتٍ فَلَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنْهُمُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ فَذَهَبَ يَصْنَعُ بِهَا ذَلِكَ فَأَنْكَرَتْهُ عَلَيْهِ وَقَالَتْ إِنَّمَا كُنَّا نُؤْتَى عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ فَاصْنَعْ ذَلِكَ وَإِلَّا فَاجْتَنِبْنِي حَتَّى سَرَى أَمْرُهُمَا فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة 223] «أَيْ مُقْبِلَاتٍ وَمُدْبِرَاتٍ وَمُسْتَلْقِيَاتٍ يَعْنِي ذَلِكَ مَوْضِعَ الْوَلَدِ»
English Translation
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrated: 'Indeed Ibn Umar—may Allah forgive him—was mistaken. This clan of the Ansar, who were idol-worshippers, lived alongside this clan of the Jews, who were People of the Book. They considered the Jews superior and used to follow many of their practices. One of their practices was that women would lie on their faces [during intimacy].' Then the verse was revealed: {Your wives are a tilth for you, so go to your tilth however you wish} [al-Baqarah 2:223].
Urdu Translation
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: بے شک ابن عمر — اللہ انہیں معاف فرمائے — سے وہم ہوا ہے۔ دراصل انصار کا یہ قبیلہ جو بُت پرست تھے، اِس یہود کے قبیلے کے ساتھ رہتے تھے جو اہلِ کتاب تھے۔ وہ یہودیوں کو اپنے سے فضیلت والا سمجھتے تھے اور اُن کے بہت سے طریقوں کی پیروی کرتے تھے۔ اُن کے طریقوں میں سے یہ بھی تھا کہ عورتیں منہ کے بل لیٹتی تھیں۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: {تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، تو اپنی کھیتی میں جیسے چاہو آؤ} [البقرۃ 2:223]۔
