Arabic (Original)
حَدَّثَنِي أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ ثنا أَبُو سَهْلٍ حَسَنُ بْنُ سَهْلٍ اللَّبَّادُ ثنا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ثنا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ «مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ حَتَّى يُرَاجِعَهُ» قَالَ «وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ إِمَامُ جَمَاعَةٍ فَإِنَّ مَوْتَتَهُ مَوْتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ» وَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَإِنَّ سَعَتَهُ مَا بَيْنَ الْكُوفَةِ إِلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ وَآنِيَتُهُ كَعَدَدِ النُّجُومِ وَإِنِّي رَأَيْتُ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي لَمَّا دَنَوْا مِنِّي خَرَجَ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ قَالَ بِهِمْ عَنِّي ثُمَّ أَقْبَلَتْ زُمْرَةٌ أُخْرَى فَفَعَلَ بِهِمْ كَذَلِكَ فَلَمْ يَفْلِتْ مِنْهُمْ إِلَّا كَمَثَلِ النَّعَمِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعَلِّي مِنْهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ «لَا وَلَكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَخْرُجُونَ بَعْدَكُمْ وَيَمْشُونَ الْقَهْقَرَى» «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَقَدْ حَدَّثَ بِهِ الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَيْضًا عَنِ اللَّيْثِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» على شرطهما
English Translation
Hadrat Abdullah ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Whoever leaves the congregation by even a hand-span has removed the bond of Islam from his neck until he returns to it.' And he stated: 'Whoever dies without having an imam of the congregation over him, his death is a death of ignorance (jahiliyyah).' And the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave a sermon saying: 'O people, I am your forerunner at the Pond. Its expanse is like the distance between Kufah and the Black Stone. Its vessels are as numerous as the stars. And I saw some people from my Ummah — when they drew close to me, a man came and turned them away from me. Then another group came and the same was done to them. None escaped except like stray camels.' Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) submitted: 'Am I perhaps among them, O Prophet of Allah?' He stated: 'No, but they are people who will come after you and walk backwards.'
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حبیبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 'جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھر بھی الگ ہوا اس نے اسلام کا پٹا اپنی گردن سے اتار دیا یہاں تک کہ واپس آئے۔' اور ارشاد فرمایا: 'جو مرے اور اس پر جماعت کا امام نہ ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔' اور حبیبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: 'اے لوگو! میں تمہارا پیش رو حوض پر ہوں۔ اس کی وسعت کوفے سے حجرِ اسود تک ہے۔ اس کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں۔ اور میں نے دیکھا کہ میری اُمت کے کچھ لوگ جب میرے قریب آئے تو ایک شخص نکلا اور انہیں مجھ سے ہٹا دیا۔ پھر ایک اور جماعت آئی تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا۔ ان میں سے بہت کم بچے جیسے آوارہ اونٹ۔' حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: شاید میں بھی ان میں ہوں، یا نبی اللہ؟ ارشاد فرمایا: 'نہیں، لیکن وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے اور الٹے پاؤں چلیں گے۔'
