Arabic (Original)
حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ ثنا أَبِي ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ «كُلُّ شَيْءٍ مِنْ لَهُوِ الدُّنْيَا بَاطِلٌ إِلَّا ثَلَاثَةٌ انْتِضَالُكَ بِقَوْسِكَ وَتَأْدِيبُكَ فَرَسَكَ وَمُلَاعَبَتُكَ أَهْلَكَ فَإِنَّهَا مِنَ الْحَقِّ» وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «انْتَضِلُوا وَارْكَبُوا وَإِنْ تَنْتَضِلُوا أَحَبُّ إِلَيَّ إِنَّ اللَّهَ لَيُدخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِيهِ الْخَيْرَ وَالْمُتَنَبِّلُ وَالرَّامِيَ بِهِ» على شرط مسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ «كُلُّ شَيْءٍ مِنْ لَهُوِ الدُّنْيَا بَاطِلٌ إِلَّا ثَلَاثَةٌ انْتِضَالُكَ بِقَوْسِكَ وَتَأْدِيبُكَ فَرَسَكَ وَمُلَاعَبَتُكَ أَهْلَكَ فَإِنَّهَا مِنَ الْحَقِّ» وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «انْتَضِلُوا وَارْكَبُوا وَإِنْ تَنْتَضِلُوا أَحَبُّ إِلَيَّ إِنَّ اللَّهَ لَيُدخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِيهِ الْخَيْرَ وَالْمُتَنَبِّلُ وَالرَّامِيَ بِهِ» على شرط مسلم
English Translation
Narrated from Hadrat Abu Hurayra (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Everything of the amusements of this world is vain except three things: your practicing with your bow, your training your horse, and your playing with your wife — for these are from what is right.' And the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Compete in archery and ride, and that you compete in archery is more beloved to me. Indeed, Allah admits three people into Paradise by means of a single arrow: the one who made it seeking good in it, the one who hands it over, and the one who shoots it.' Meeting the criteria of Muslim.
Urdu Translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 'دنیا کے کھیل میں سب کچھ باطل ہے سوائے تین چیزوں کے: تمہارا اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا، تمہارا اپنے گھوڑے کی تربیت کرنا، اور تمہارا اپنی بیوی سے کھیلنا — کیونکہ یہ حق میں سے ہیں۔' اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 'تیر اندازی کا مقابلہ کرو اور سوار ہو، اور تمہارا تیر اندازی کا مقابلہ کرنا مجھے زیادہ محبوب ہے۔ بے شک اللہ ایک تیر سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرماتا ہے: اسے بنانے والا جس نے نیکی کی نیت رکھی، اسے پکڑانے والا، اور اسے چلانے والا۔' مسلم کی شرط پر ہے۔
