Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ وَعَلَى الْجَمَاعَةِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَالرُّومُ مُلْصِقُوا ظُهُورِهِمْ بِحَائِطِ الْمَدِينَةِ فَحَمَلَ رَجُلٌ عَلَى الْعَدُوِّ فَقَالَ النَّاسُ مَهْ مَهْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يُلْقِي بِيَدَيْهِ إِلَى التَّهْلُكَةَ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ لَمَّا نَصَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ وَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ قُلْنَا لَهُمْ نُقِيمُ فِي أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحُهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ ﷻ {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة 195] فَالْإِلْقَاءُ بِأَيْدِينَا إِلَى التَّهْلُكَةِ أَنْ نُقِيمَ فِي أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحَهَا وَنَدَعَ الْجِهَادَ قَالَ أَبُو عِمْرَانَ فَلَمْ يَزَلْ أَبُو أَيُّوبَ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى دُفِنَ بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» على شرط البخاري ومسلم
English Translation
Narrated from Hadrat Aslam Abu 'Imran (may Allah have mercy upon him), he said: We set out from Madinah intending Constantinople, and 'Abd al-Rahman ibn Khalid ibn al-Walid was leading the army. The Romans had their backs against the wall of the city. A man charged at the enemy, and the people exclaimed: 'Stop! Stop! There is no god but Allah! He is throwing himself into destruction!' Then Hadrat Abu Ayyub al-Ansari (may Allah be well pleased with him) said: 'This verse was only revealed about us, the community of the Ansar. When Allah granted victory to His Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and Islam became dominant, we said among ourselves: Let us stay with our properties and tend to them. Then Allah Most High revealed: "And spend in the cause of Allah and do not throw yourselves into destruction" [al-Baqara 2:195]. So throwing ourselves into destruction means staying with our properties, tending to them, and abandoning jihad.' Abu 'Imran said: Abu Ayyub continued to fight in the cause of Allah until he was buried in Constantinople. This hadith is sound, meeting the criteria of al-Bukhari and Muslim, and they did not record it.
Urdu Translation
اسلم ابوعمران سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ہم مدینہ سے قسطنطنیہ کا ارادہ کر کے نکلے، عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید لشکر کے امیر تھے۔ روم کے لوگوں نے شہر کی دیوار سے اپنی پشت لگا رکھی تھی۔ ایک شخص نے دشمن پر حملہ کیا تو لوگ کہنے لگے: رکو رکو! لا الہ الا اللہ! یہ اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈال رہا ہے! تو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ آیت تو ہم انصار کی جماعت کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ جب اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فتح دی اور اسلام غالب ہوا تو ہم نے آپس میں کہا: اپنے مالوں میں رہیں اور ان کی اصلاح کریں۔ تو اللہ عزوجل نے نازل فرمایا: 'اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو' [البقرة: 195]۔ پس اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈالنا یہ ہے کہ ہم اپنے مالوں میں رہیں، ان کی اصلاح کریں اور جہاد چھوڑ دیں۔' ابوعمران نے فرمایا: ابوایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ برابر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ قسطنطنیہ میں دفن ہوئے۔ یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور انہوں نے اسے نقل نہیں کیا۔
