Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَاعِدًا حَيْثُ تُوضَعُ الْجَنَائِزُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ قِبَلَ السَّمَاءِ ثُمَّ خَفَضَ بَصَرَهُ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ فَقَالَ «سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ التَّشْدِيدِ» قَالَ فَعَرَفْنَا وَسَكَتْنَا حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نَزَلَ؟ قَالَ «فِي الدَّيْنِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قُتِلَ رَجُلٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَاشَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ صحيح
English Translation
Hadrat Muhammad ibn Jahsh (may Allah be well pleased with him) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was sitting where the funeral biers are placed. He raised his head toward the sky, then lowered his gaze and placed his hand on his forehead and said: 'Glory be to Allah, glory be to Allah! What severity has Allah revealed!' We recognized the gravity and remained silent. The next day I asked: 'O Messenger of Allah, what is the severity that was revealed?' He stated: 'It is regarding debt. By Him in Whose Hand is the soul of Muhammad, even if a man were killed in the way of Allah, then brought back to life, and he had a debt upon him, he would not enter Paradise until his debt is repaid.'
Urdu Translation
حضرت محمد بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جہاں جنازے رکھے جاتے ہیں وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے آسمان کی طرف سر اُٹھایا پھر نظر جھکائی اور اپنا ہاتھ پیشانی پر رکھ کر فرمایا: سبحان اللہ! سبحان اللہ! کیا سختی نازل ہوئی! ہم نے سنجیدگی محسوس کی اور خاموش رہے۔ اگلے دن میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون سی سختی نازل ہوئی تھی؟ آپ نے ارشاد فرمایا: «قرض کے بارے میں ہے۔ اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے پھر زندہ ہو اور اُس پر قرض ہو تو وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک اُس کا قرض ادا نہ ہو جائے۔»
