Arabic (Original)
حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي جُمَادَى الْآخِرَةِ سَنَةَ سَبْعٍ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مَائَةٍ أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ سَلْمَانَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بِهَدِيَّةٍ عَلَى طَبَقٍ فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ «مَا هَذَا يَا سَلْمَانُ؟» قَالَ صَدَقَةٌ عَلَيْكَ وَعَلَى أَصْحَابِكَ قَالَ «إِنِّي لَا آكُلُ الصَّدَقَةَ» فَرَفَعَهَا ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِهَا فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ «مَا هَذَا؟» قَالَ هَدِيَّةٌ لَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِأَصْحَابِهِ «كُلُوا» قَالَ «لِمَنْ أَنْتَ؟» قَالَ لِقَوْمٍ قَالَ «فَاطْلُبْ إِلَيْهِمْ أَنْ يُكَاتِبُوكَ» قَالَ فَكَاتَبُونِي عَلَى كَذَا وَكَذَا نَخْلَةٍ أَغْرِسُهَا لَهُمْ وَيَقُومُ عَلَيْهَا سَلْمَانُ حَتَّى تُطْعِمَ قَالَ فَفَعَلُوا قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ ﷺ فَغَرَسَ النَّخْلَ كُلَّهُ أَلَا نَخْلَةً وَاحِدَةً غَرَسَهَا عُمَرُ وَأَطْعَمَ نَخْلُهُ مِنْ سَنَتِهِ إِلَّا تِلْكَ النَّخْلَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «مَنْ غَرَسَهَا؟» قَالُوا عُمَرُ «فَغَرَسَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ يَدِهِ فَحَمَلَهَا مِنْ عَامِهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ «أَخْرَجَهُ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ فِي بَابِ الرُّخْصَةِ فِي اشْتِرَاطِ الْبَائِعِ خِدْمَةَ الْعَبْدِ الْمَبِيعِ وَقْتًا مَعْلُومًا» وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ سَلْمَانَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُعلى شرط مسلم
English Translation
Hadrat Buraydah (may Allah be well pleased with him) narrated that when Hadrat Salman (may Allah be well pleased with him) came to Madinah, he brought a gift on a tray to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and placed it before him. He asked: "What is this, O Salman?" He replied: "It is charity for you and your companions." He stated: "I do not eat charity," and he set it aside. Then the next day Salman brought something similar and placed it before him. He asked: "What is this?" He replied: "A gift for you." So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said to his companions: "Eat." Then he asked Salman: "Whom do you belong to?" He replied: "To a people (i.e., he was a slave)." He stated: "Ask them to arrange a contract of manumission (mukataba)." So they wrote a contract requiring him to plant a certain number of palm trees and tend them until they bore fruit. The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came and planted all the palms himself except one, which Umar planted. All the palms bore fruit in their first year except that one. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) asked: "Who planted this one?" They said: "Umar." So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) uprooted it and replanted it with his own blessed hand, and it bore fruit that same year.
Urdu Translation
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ منورہ آئے تو انہوں نے محبوب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک طبق میں تحفہ پیش کیا۔ آپ نے پوچھا: "یہ کیا ہے، اے سلمان؟" عرض کیا: آپ اور آپ کے صحابہ کے لیے صدقہ ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: "میں صدقہ نہیں کھاتا" اور اسے ہٹا دیا۔ پھر اگلے دن اسی طرح لے کر آئے۔ آپ نے پوچھا: "یہ کیا ہے؟" عرض کیا: آپ کے لیے ہدیہ ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: "کھاؤ۔" پھر پوچھا: "تو کس کا ہے؟" عرض کیا: ایک قوم کا (یعنی غلام تھے)۔ آپ نے فرمایا: "ان سے کہو کہ مکاتبت لکھ دیں۔" تو انہوں نے اتنے کھجور کے درخت لگانے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی شرط پر مکاتبت لکھ دی۔ پھر محبوب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور تمام کھجور کے درخت اپنے ہاتھ مبارک سے لگائے سوائے ایک کے جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لگایا۔ سب درختوں نے اسی سال پھل دیا سوائے اس ایک کے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: "یہ کس نے لگایا؟" لوگوں نے کہا: عمر نے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اکھاڑ کر اپنے ہاتھ مبارک سے دوبارہ لگایا، تو اس نے بھی اسی سال پھل دیا۔
