Arabic (Original)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَنْبَأَ مُحَمَّدٌ بْنُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ «فِيمَ الرَّمَلَانُ الْآنَ وَالْكَشْفُ عَنِ الْمَنَاكِبِ وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ؟ وَمَعَ ذَلِكَ لَا نَتْرُكُ شَيْئًا كُنَّا نَصْنَعُهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ
English Translation
Narrated from Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) that he said: "What is the purpose of ramal (brisk walking) now and baring the shoulders, when Allah has firmly established Islam and driven away disbelief and its people? Nevertheless, we shall not abandon anything we used to do with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)." This is an authentic hadith meeting the condition of Muslim, yet they did not record it.
Urdu Translation
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: "اب رمل (تیز چلنا) اور کندھے کھولنے کا کیا مقصد ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو مضبوط کر دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کو دور کر دیا ہے؟ اس کے باوجود ہم کوئی چیز نہیں چھوڑیں گے جو ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا کرتے تھے۔" یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے مگر انہوں نے اسے نقل نہیں کیا۔
