Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ثنا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ثنا زُهَيْرٌ ثنا زُبَيْدٌ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَرِيبًا مِنْ أَلْفِ رَاكِبٍ فَنَزَلَ بِنَا وَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَفَدَاهُ بِالْأُمِّ وَالْأَبِ يَقُولُ مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ؟ قَالَ «إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي الِاسْتِغْفَارِ لِأُمِّي فَلَمْ يَأْذَنْ لِي فَدَمَعَ عَيْنَايَ رَحْمَةً لَهَا وَاسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي زِيَارَتِهَا فَأَذِنَ لِي وَإِنِّي كُنْتُ قَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَلْيَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا»
English Translation
Hadrat Buraydah (may Allah be well pleased with him) narrated: We were with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), about a thousand riders, and he halted with us and led us in two rak'ahs of prayer. Then he turned his face toward us while his eyes were shedding tears. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) stood up and offered his parents as ransom, asking: "What is the matter, O Messenger of Allah?" He stated: "I asked permission from my Lord to seek forgiveness for my mother, but I was not permitted. And I had forbidden you from visiting graves; now visit them, for they soften the heart."
Urdu Translation
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تقریباً ایک ہزار سوار تھے۔ آپ نے ہمارے ساتھ پڑاؤ ڈالا اور ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی۔ پھر اپنا چہرۂ مبارک ہماری طرف پھیرا جب کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور اپنے ماں باپ فدا کرتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہوا؟ آپ نے ارشاد فرمایا: «مَیں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لیے مغفرت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی۔ اور مَیں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا، اب ان کی زیارت کرو کیونکہ وہ دل کو نرم کرتی ہیں۔»
