Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ السَّاعَةِ لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا عَنِ السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْهَا عِلْمٌ؟ فَقَالَ سَأَلْنَا النَّبِيَّ ﷺ عَنْهَا فَقَالَ «إِنِّي كُنْتُ أَعْلَمُهَا ثُمَّ أُنْسِيتُهَا كَمَا أُنْسِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ» ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ «وَهَذَا شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ لِحَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» صحيح
English Translation
Abu Salamah narrated: I said by Allah, if I were to go to Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) and ask him about this hour, perhaps he might have some knowledge about it. So I went to him and said: O Abu Sa'id, Abu Hurayrah told us about the hour on Friday; do you have any knowledge about it? He said: We asked the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) about it, and he stated: 'I used to know it, but then I was made to forget it, just as I was made to forget the Night of Qadr (Power).' Then I left him and went to Abdullah ibn Salam and mentioned the hadith. This is an authentic supporting narration on the condition of the two Shaykhs.
Urdu Translation
ابو سلمہ نے بیان کیا: میں نے کہا اللہ کی قسم اگر میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاؤں اور ان سے اس ساعت کے بارے میں پوچھوں تو شاید ان کے پاس اس کا علم ہو۔ میں ان کے پاس آیا اور عرض کیا: اے ابو سعید! ابوہریرہ نے ہمیں جمعہ کی ساعت کے بارے میں بتایا، کیا آپ کے پاس اس کا کوئی علم ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: 'میں اسے جانتا تھا پھر مجھے بھلا دیا گیا جیسے شب قدر بھلا دی گئی۔' پھر میں ان کے پاس سے نکلا اور عبداللہ بن سلام کے پاس گیا اور حدیث بیان کی۔ یہ شیخین کی شرط پر صحیح شاہد ہے۔
