Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ : زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ عَلَى عَهْدِ عَبْدِ اللَّهِ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ، فَقَالَ : إِنَّا كُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ K نَرَى الْآيَاتِ بَرَكَاتٍ، وَأَنْتُمْ تَرَوْنَهَا تَخْوِيفًا، بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ إِلَّا يَسِيرٌ، " فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فِي صَحْفَةٍ، وَوَضَعَ كَفَّهُ فِيهِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَتْبَجِّسُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ "، ثُمَّ نَادَى :" حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ، وَالْبَرَكَةُ مِنْ اللَّهِ "، قالَ : فَأَقْبَلَ النَّاسُ فَتَوَضَّئُوا، وَجَعَلْتُ لَا هَمَّ لِي إِلَّا مَا أُدْخِلُهُ بَطْنِي لِقَوْلِهِ : " وَالْبَرَكَةُ مِنْ اللَّهِ "، فَحَدَّثْتُ بِهِ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، فَقَالَ : كَانُوا خَمْسَ عَشْرَةَ مِئَةٍ
English Translation
Hadrat Abdullah (may Allah be well pleased with him) narrated: 'The earth quaked during the time of Abdullah. He was informed about it and said: We, the Companions of Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him), used to consider the signs as blessings, while you consider them as something frightening. Once we were with the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) on a journey when the time for prayer came and we had no water except a little. The Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) called for water in a bowl and placed his blessed palm in it. Water began to gush forth from between his blessed fingers. Then he called out: "Come to ablution, and the blessing is from Allah." The people came and performed ablution. I had no concern except to drink as much as I could because he said: "And the blessing is from Allah."' I narrated this to Salim ibn Abi al-Ja'd, who said: They were fifteen hundred.
Urdu Translation
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں زمین لرزی، انہیں خبر دی گئی تو فرمایا: ہم محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نشانیوں کو برکتیں سمجھتے تھے جبکہ تم انہیں ڈراوا سمجھتے ہو۔ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے جب نماز کا وقت آیا اور ہمارے پاس تھوڑے سے پانی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پیالے میں پانی منگوایا اور اپنی ہتھیلی مبارک اس میں رکھی تو آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی ابلنے لگا۔ پھر آواز دی: آؤ وضو کی طرف، اور برکت اللہ کی طرف سے ہے۔ لوگ آئے اور وضو کیا۔ مجھے تو بس اتنی فکر تھی کہ جتنا پیٹ میں ڈال سکوں ڈال لوں کیونکہ آپ نے فرمایا تھا: اور برکت اللہ کی طرف سے ہے۔ میں نے یہ حدیث سالم بن ابی الجعد کو سنائی تو انہوں نے کہا: وہ پندرہ سو تھے۔
