Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ : أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ وَكَتَبَهُ مِنْهَا كِتَابًا أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَهْلِهِ تَبْتَغِي مِنْهُمُ النَّفَقَةَ، فَقَالُوا : لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ :" لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ، وَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ، وَانْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ، وَلَا تُفَوِّتِينَا بِنَفْسِكِ "، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ يَدْخُلُ إِلَيْهَا إِخْوَانُهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَلَكِنِ انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى، إِنْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ لَمْ يَرَ شَيْئًا وَلَا تُفَوِّتِينَا بِنَفْسِكِ "، فَانْطَلَقَتْ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَلَمَّا حَلَّتْ، ذَكَرَتْ أَنَّ مُعَاوِيَةَ، وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا مُعَاوِيَةُ، فَرَجُلٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ، فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْ أُسَامَةَ؟ " فَكَأَنَّ أَهْلَهَا كَرِهُوا ذَلِكَ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ لَا أَنْكِحُ إِلَّا الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَكَحَتْ أُسَامَةَ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ : يَا فَاطِمَةُ ، اتَّقِي اللَّهَ، فَقَدْ عَلِمْتِ فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : # يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ سورة الطلاق آية 1 # وَالْفَاحِشَةُ أَنْ تَبْذُوَ عَلَى أَهْلِهَا، فَإِذَا فَعَلَتْ ذَلِكَ، فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يُخْرِجُوهَا
English Translation
Hadrat Fatimah bint Qais (may Allah be well pleased with her) narrated that she was married to a man from Quraysh, from Banu Makhzum, who gave her an irrevocable divorce. She sent to his family seeking maintenance, but they said: 'You have no right to maintenance.' This reached the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), who stated: "You have no right to maintenance, but you must observe the waiting period. Move to the house of Umm Sharik, and do not decide your affair without consulting us." Then he stated: "Umm Sharik is a woman whose brothers from the Muhajireen visit her. Rather, move to the house of Ibn Umm Maktum, for he is a blind man; if you remove your garments, he will not see anything. And do not decide your affair without consulting us." So she went to the house of Ibn Umm Maktum. When her waiting period was over, she mentioned that Hadrat Mu'awiyah and Abu Jahm (may Allah be well pleased with them) had proposed to her. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "As for Mu'awiyah, he is a man with no wealth. As for Abu Jahm, he does not put down his stick from his shoulder (i.e., he is harsh). What about Usamah for you?" It was as though her family disliked that, but she said: 'By Allah, I will not marry anyone except the one the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) indicated.' So she married Hadrat Usamah (may Allah be well pleased with him).
Urdu Translation
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ قریش کے ایک آدمی سے بنو مخزوم کے خاندان میں بیاہی ہوئی تھیں، اس نے انہیں قطعی طلاق دے دی۔ انہوں نے اس کے گھر والوں کے پاس نفقہ کا مطالبہ بھیجا۔ انہوں نے کہا: تمہارا کوئی نفقہ نہیں۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے ارشاد فرمایا: "تمہارا نفقہ نہیں ہے، تم پر عدت لازم ہے۔ ام شریک کے گھر منتقل ہو جاؤ اور ہماری اجازت کے بغیر اپنا فیصلہ نہ کرو۔" پھر فرمایا: "ام شریک ایک ایسی عورت ہیں جن کے پاس مہاجرین میں سے ان کے بھائی آتے جاتے ہیں۔ بلکہ ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ، وہ نابینا آدمی ہیں، اگر تم اپنے کپڑے اتارو تو وہ کچھ نہیں دیکھیں گے۔ اور ہماری اجازت کے بغیر اپنا فیصلہ نہ کرو۔" پس وہ ابن ام مکتوم کے گھر چلی گئیں۔ جب ان کی عدت پوری ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ حضرت معاویہ اور ابو جہم رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان کو پیغامِ نکاح بھیجا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "معاویہ تو مال نہ رکھنے والا آدمی ہے اور ابو جہم اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں اتارتا (یعنی سخت مزاج ہے)۔ تم اسامہ کے بارے میں کیا کہتی ہو؟" ان کے گھر والوں کو یہ ناپسند لگا، لیکن انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں صرف اسی سے نکاح کروں گی جس کا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ پس انہوں نے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نکاح کر لیا۔
