Arabic (Original)
وَعَنْ جَابِرٍ - رضى الله عنه - قَالَ: { طُلِّقَتْ خَالَتِي, فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ, فَأَتَتْ اَلنَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم -فَقَالَ: بَلْ جُدِّي نَخْلَكِ, فَإِنَّكَ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي, أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا } رَوَاهُ مُسْلِمٌ 1 1110- وَعَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ; { أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ 2 لَهُ فَقَتَلُوهُ. قَالَتْ: فَسَأَلْتُ اَلنَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم -أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي; فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْ لِي مَسْكَنًا يَمْلِكُهُ وَلَا نَفَقَةً, فَقَالَ: "نَعَمْ". فَلَمَّا كُنْتُ فِي اَلْحُجْرَةِ نَادَانِي, فَقَالَ: " اُمْكُثِي فِي بَيْتِكَ حَتَّى يَبْلُغَ اَلْكِتَابُ أَجَلَهُ". قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا, قَالَتْ: فَقَضَى بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ عُثْمَانُ } أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ, وَالْأَرْبَعَةُ, وَصَحَّحَهُ اَلتِّرْمِذِيُّ, والذُّهْلِيُّ, وَابْنُ حِبَّانَ, وَالْحَاكِمُ وَغَيْرُهُمْ 3 .1 - صحيح. رواه مسلم (1483).2 - في "أ": "عبد" وهو خطأ ناسخ. والله أعلم.3 - حسن. رواه أحمد (6 /370 و 420 - 421)، وأبو داود (2300)، والنسائي (699)، والترمذي (1204)، وابن ماجه (2031)، وابن حبان (1331 و 1332)، والحاكم (208). وقال الترمذي: "حديث حسن صحيح". وتصحيح الذهلي نقله الحاكم، وأما تضعيف ابن حزم له (10 /302) فمردود عليه كما تجده بالأصل.
English Translation
It is narrated by Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him) that My maternal aunt was divorced and wanted to cut down fruit from her paml-trees. A man forbade her to go out, so she went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and he said, "Certainly, cut down fruit from your palm-trees, for perhaps you have give Sadaqah (charity) or do an act of kindness." . 1121. Narrated Furai'ah, daughter of Malik: Her husband had gone out in search of some slaves of his and they killed him. She said, "I asked Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) to be allowed to return to my family, for my husband had not left for me a house which belonged to him, nor had he left me maintenance." He then said, "Yes, (I agree)," but when I was in the courtyard, he called me and said, "Stay in your house till the prescribed period expires." She said, "I observed the period in it for four months and ten days." She said, "Afterwards Hadrat 'Uthman gave judgements in accordance with that." .
Urdu Translation
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میری خالہ کو طلاق ہو گئی تو وہ اپنی کھجوریں توڑنا چاہتی تھیں، ایک شخص نے انہیں باہر نکلنے سے منع کیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ نے فرمایا: ہاں اپنی کھجوریں توڑو، شاید تم صدقہ کرو یا کوئی نیکی کرو۔ اسے مسلم نے روایت کیا۔ اور حضرت فریعہ بنت مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ان کا شوہر اپنے غلاموں کی تلاش میں نکلا تو انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ وہ فرماتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے گھر والوں کے پاس لوٹنے کی اجازت مانگی کیونکہ میرے شوہر نے نہ کوئی مکان چھوڑا تھا اور نہ نفقہ۔ آپ نے فرمایا: ہاں۔ جب میں حجرے میں تھی تو آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: اپنے گھر میں ٹھہری رہو یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے۔ وہ فرماتی ہیں: میں نے اس میں چار مہینے دس دن عدت گزاری اور اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔ اسے احمد اور اصحاب سنن اربعہ نے روایت کیا اور ترمذی، ذہلی، ابن حبان اور حاکم وغیرہ نے صحیح قرار دیا۔
